خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 692 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 692

خطبات ناصر جلد دہم ۶۹۲ خطبہ نکاح ۲۲ / دسمبر ۴ ۱۹۷۴ء کی توفیق پائے۔آخر نکاح کے بعد ہی بچے پیدا ہوں گے پھر وہ جوان ہوں گے پھر ان کے کندھوں پر بوجھ پڑیں گے ان کو بھی اللہ تعالیٰ توفیق عطا کرے کہ وہ خدمت دین کی ذمہ داریوں کو بشاشت کے ساتھ ادا کرنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کو زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے والے ہوں۔پس اس بنیادی دعا کے ساتھ میں اس وقت سات نکاحوں کا اعلان کروں گا۔سب سے پہلے میں اپنی ہمشیرہ امتہ الباسط صاحبہ اور اپنے بہنوئی میرسید داؤ د احمد صاحب کی صاحبزادی امۃ المصور کے نکاح کا اعلان کروں گا جو عزیزم مکرم مرزا مغفور احمد صاحب کے ساتھ پانچ ہزار روپے مہر پر قرار پایا ہے عزیزم مرزا مغفور احمد صاحب مکرم مرزا منصور احمد صاحب کے صاحبزادہ ہیں میں بچی اور ان کی والدہ کی خواہش کے مطابق بطور وکیل نکاح عزیزہ امتہ المصور صاحبہ بنت مکرم میرسید داؤ د احمد صاحب مرحوم کا نکاح پانچ ہزار روپے حق مہر پر عزیزم مکرم مرزا مغفور احمد صاحب ابن مکرم مرزا منصور احمد صاحب سے منظوری کا اعلان کرتا ہوں۔اس کے بعد میں اعلان کروں گا اپنے دولڑکوں کے نکاحوں کا۔میرے یہ دولڑ کے باقی رہ گئے تھے۔الحمد للہ آج ہم ان کے نکاحوں کا بھی اعلان کر کے فارغ ہوتے ہیں۔ایک تو مرزا فرید احمد کا نکاح ہے اور دوسرے مرزا لقمان احمد کا۔ان کے نکاحوں کے حق مہر بڑی سوچ بچار کے بعد اور کچھ لطیفے اور جنسی کے بعد پانچ ، پانچ ہزار روپے مقرر ہوئے ہیں۔میرا چھوٹا بیٹا لقمان تو کہتا تھا کہ میں نے حق مہر بتیس روپے سینتیس پیسے رکھنا ہے لیکن ہم نے سوچا کہ حضرت اصلح الموعود رضی اللہ عنہ اپنے بچوں کا عام طور پر ایک ہزار روپے حق مہر رکھتے رہے ہیں لیکن اب چونکہ بڑی کثرت سے نوٹ شائع ہو گئے ہیں اس لئے اگر اس وقت کے ہزار روپے کے نوٹوں کی قیمت کا آج کے روپے سے مقابلہ کیا جائے تو شاید ہزار ایک لاکھ بن چکے ہوں گے لیکن لاکھ کا عدد انسان کو بہت ڈراتا ہے اس لئے ہم نے کہا کہ اچھا ہم ان دونوں کا پانچ ، پانچ ہزار روپے حق مہر مقرر کر دیتے ہیں۔ان سب نکاحوں کے ایجاب وقبول کے بعد حضور انور نے فرمایا۔اب ہم ان رشتوں کے بابرکت ہونے کے لئے دعا کریں گے لیکن اس سے قبل میں یہ کہنا