خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 570
خطبات ناصر جلد دہم ۵۷۰ خطبہ نکاح ۱۴ را کتوبر ۱۹۷۱ء وہ اپنی نیتیں اللہ تعالیٰ کی نگاہ یعنی اس کے علم سے پوشیدہ رکھ سکتا ہے۔اگر یہ ذہنی کیفیت نہ ہو بلکہ انسان اس بات پر پختہ ایمان رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ کو باریک سے بار یک ذرے سے لے کر ستاروں کے بڑے سے بڑے خاندان Glaxies ( فلیکسیز یعنی کہکشاں ) تک کے سارے حالات کا علم ہے اور کوئی چیز اس کی نظر سے نہ پوشیدہ رہی اور نہ رہ سکتی ہے تو پھر انسان ان ذمہ داریوں کو نباہنے کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے جو مختلف شکلوں میں انسان پر اللہ تعالیٰ کی اس کامل اور مکمل شریعت قرآن کریم نے ڈالی ہیں۔پس ہمیں ہر وقت اس بات کا خیال رکھنا چاہیے۔کیونکہ سب خیر اور برکت اسی میں ہے کہ ہم اپنا زندہ اور حقیقی تعلق اللہ تعالیٰ سے رکھیں اور اپنے ایمانوں کو پختہ کریں۔پھر یہ دنیا اور دنیا کی خوشیاں اگر چہ مومن کا مقصود نہیں ہوتیں لیکن مومن کو مل ضرور جاتی ہیں۔پس اس رشتے کی جو ذمہ داریاں ہیں اللہ تعالیٰ ان کہ نباہنے کی ہر دو افراد یعنی میاں بیوی کو توفیق بخشے اور کیونکہ یہ رشتے جو ہیں وہ خاندانوں پر بھی ذمہ داریاں ڈالتے ہیں اس لئے اللہ تعالیٰ ہر دو خاندانوں کو بھی یہ ذمہ داریاں نباہنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کی نیتوں اور ان کے اعمال کو زیادہ سے زیادہ برکات اور رحمتوں کے حصول کا موجب بنائے اور ہر دو خاندانوں کے لئے یہ رشتہ ہر طرح سے بابرکت ہو۔ہمارے ان دونوں عزیزوں یعنی لڑکا اور لڑکی کے خاندان پرانے احمدی خاندان ہیں۔پس جس طرح پہلوں نے اپنی توفیق اور اپنی قوت اور استعداد کے مطابق خدا کی راہ میں ایثار اور خدمت کے جذبے اور جد و جہد اور کوشش کو پیش کیا ، خدا کرے کہ ان (کے اس رشتہ ) سے چلنے والی نسل بھی اللہ تعالیٰ کو پہچانے والی اور محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پیار اور آپ کی عزت کو قائم کرنے والی ہو اور اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا وارث بننے والی ہو۔ایجاب وقبول کے بعد حضور نے فرما یا آؤ دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس رشتے کو بہت بابرکت کرے۔اس کے بعد حضور نے حاضرین سمیت لمبی دعا کرائی۔روزنامه الفضل ربوه ۱۵ اکتوبر ۱۹۷۱ صفحه ۴)