خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 569 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 569

خطبات ناصر جلد دہم ۵۶۹ خطبہ نکاح ۱۴ /اکتوبر ۱۹۷۱ء سب خیر و برکت اللہ تعالیٰ سے زندہ اور حقیقی تعلق رکھنے میں ہے خطبہ نکاح فرموده ۱۴ /اکتوبر ۱۹۷۱ء بمقام ربوہ حضور انور نے شام ساڑھے چھ بجے احاطہ دفتر پرائیوٹ سیکرٹری میں ایک نکاح کا اعلان فرمایا۔خطبہ مسنونہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اس وقت میں جس نکاح کے اعلان کے لئے یہاں آیا ہوں وہ عزیزہ بچی بشری لطیف صاحبہ کا ہے جو مکرم محترم ڈاکٹر عبداللطیف صاحب ساکن لاہور کی صاحبزادی ہیں ان کا نکاح پچیس ہزار روپے حق مہر پر عزیزم سمیع اللہ صاحب ابن مکرم محترم شیخ محم عبد اللہ صاحب جناح کالونی لائلپور سے قرار پایا ہے۔اللہ تعالیٰ کی ان صفات پر پختہ اور حقیقی ایمان لانا جن کا ذکر قرآن کریم میں بیان ہوا ہے ہمارے نفس اور ہمارے معاشرہ کی اصلاح کے لئے ضروری ہے۔یہ آیات قرآنیہ جو نکاح کے موقع پر پڑھی جاتی ہیں ان میں ایک اشارہ اس طرف بھی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو علام الغیوب مانا جائے یعنی کوئی چیز اس کی نظر اور ا سکے علم کے احاطہ سے باہر نہیں تو انسان اپنی ذمہ داریوں کو نباہنے کی طرف زیادہ توجہ کرتا ہے۔اصل میں غلطی اور غفلت یا جو بد قسمت ہیں وہ گناہ پر دلیر اسی لئے ہوتے ہیں کہ ان کو یہ خیال ہوتا ہے کہ جس طرح انسان کی نگاہ سے اس کے اعمال پوشیدہ بھی رکھے جاسکتے ہیں اسی طرح