خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 12
خطبات ناصر جلد دہم ۱۲ خطبہ عیدالفطر ۱۳ جنوری ۱۹۶۷ء بھوک کا ذکر کیا ہے لیکن چونکہ وہ بھی ایک بڑی وجہ تھی کفر کی اس لئے اس کو یہاں بیان کر دیا اور اصل مقصد فاتح رقبة کا ہی ہے پہلے فقرہ میں اپنی گردن کو شیطان کی غلامی سے آزاد کرانا اور دوسرے فقرہ میں اپنے بھائیوں کی گردنوں کو شیطان کی غلامی سے آزاد کرانا مطلوب ہے۔وہ غلامی جو بسا اوقات بھوک کے نتیجہ میں اور فقر اور محتاجی سے مجبور ہوکر انسان کو اختیار کرنی پڑتی ہے اسی لئے احادیث میں کثرت سے یہ روایت آتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام طور پر بڑے ہی تھی تھے۔اتنے سخی کہ اگر آپ کی سخاوت کے واقعات جوظاہر میں وقوع پذیر ہوئے (اللہ تعالیٰ کا ہر بزرگ بندہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اور کون زیادہ بزرگ ہو گا بعض نیکیاں ظاہر میں کرتا ہے اور بعض اس رنگ میں کرتا ہے کہ کسی کو ان کا علم تک نہیں ہوتا۔تو جن کا ہمیں علم ہے اگر ان کو بھی اکٹھا کیا جائے تو تاریخ ایسے سخی کی مثال دنیا کے سامنے پیش نہیں کر سکتی۔اس کے باوجود احادیث میں آتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں آپ کی سخاوت بہت بڑھ جاتی تھی اور اس کی مثال ایسی ہی بن جاتی تھی جیسے کہ خدا تعالیٰ کی رحمت کی ٹھنڈی ہوا بڑی تیز چل رہی ہو تو تیز ہوا کی طرح آپ کی سخاوت ان دنوں میں جوش میں آکر دنیا کے سامنے ظاہر ہو رہی ہوتی تھی۔پس رمضان کا تعلق کھانا کھلانے سے بڑا گہرا ہے۔چنانچہ بعض بزرگوں کا قول بھی ہمارے لٹریچر میں پایا جاتا ہے کہ جب رمضان آیا تو انہوں نے کہا کہ قرآن کریم کے پڑھنے اور مستحقین کو کھانا کھلانے کا زمانہ آ گیا۔بس اب قرآن پڑھا کریں گے اور بھوکوں کی بھوک دور کرنے کی کوشش کیا کریں گے۔تو خصوصی تعلق ہے رمضان کا بھوک دور کرنے کے ساتھ۔پس رمضان کو رحمت اور مغفرت اور غلامی سے نجات حاصل کرنے کا مہینہ قرار دیا گیا ہے۔غلامی سے نجات سب سے پہلے اپنے نفس کی نجات اور آزادی ہے اور اس کے بعد اپنے بھائیوں کی آزادی ہے۔شیطان کی غلامی سے اور شیطان کا غلام ہمارا بھائی اس طرح بھی بن جاتا ہے کہ اس کا پیٹ نہیں بھر رہا ہوتا اور بھوکا رہنے کی وجہ سے اور اپنے بچوں کو بھوکا دیکھتے ہوئے بہک جاتا ہے اور اپنے خدا کو بھول جاتا ہے اور یہ نہیں سوچتا کہ ایسے ابتلا تو بطور امتحان کے ہوتے ہیں۔ان میں کامیاب ہونے کی اور پاس ہونے کی کوشش کرنی چاہیے نہ یہ کہ آدمی فیل ہو اور نا کام ہو اور