خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 13 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 13

خطبات ناصر جلد دہم خدا کے غضب اور غصہ کو سہیڑ لے۔۱۳ خطبہ عید الفطر ۱۳ جنوری ۱۹۶۷ء بھوک ایک تو گادَ الْفَقْرُ اَنْ يَكُونَ كُفْرًا ایک غلامی بنتی ہے نا؟ بھوک کے نتیجہ میں ہمیں ایک اور قسم کی غلامی بھی نظر آ رہی ہے اور اس حدیث کے یہ بھی ایک معنی ہیں کہ جب کوئی قوم بھوک سے مرنے لگتی ہے تو وہ غیر قوموں کی غلامی اختیار کرتی ہے۔چنانچہ وہ اقوام جوان قوموں کو غلہ مہیا کرتی ہیں اور غذا مہیا کرتی ہیں جہاں کمی ہو وہ اپنے مالکانہ اثر و رسوخ اور سیاسی دباؤ کو استعمال بھی کرتی ہیں اور غلہ لینے والی قومیں اپنے آپ کو پوری آزاد محسوس نہیں کرتیں۔اللہ تعالیٰ ہماری قوم کو اس سے محفوظ رکھے۔پس ایک تو یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ رحمت کی بارش برساوے اور ہمارے ملک میں غذا کی قلت نہ ہو۔دوسرے ہمیں اللہ تعالیٰ نے جو قرآن کریم میں یہ تعلیم دی ہے کہ یتیم اور مسکین کو کھانا کھلاؤ اس کو نہیں بھولنا چاہیے۔مِسْكِيْنا ذَا مَتْرَبَةٍ کے ایک معنی یہ ہیں کہ جس نے اپنی طرف سے مال کمانے کی پوری کوشش کی ہے اگر اس کو اور کچھ نہیں ملا تو اس نے مزدوری کی ہے اور وہ گرد آلود ہے اور ذا متربة ہے۔پس ذَا مَتْرَبَةٍ کے ایک معنے یہ ہیں کہ ایسا مسکین جس کو مانگنے کی عادت نہیں۔بہت سارے لوگ آپ کو خوش پوش نظر آئیں گے اور اندر سے وہ بہت غریب ہوں گے۔مانگ مانگ کے گزارہ کر لیتے ہیں، مانگ کے کپڑے پہن لئے ، مانگ کے کھا لیا اور کام کوئی نہ کیا۔تو یہ ذہنیت بڑی گندی ہے اس سے بچنا چاہیے۔اللہ تعالیٰ جماعت کے افراد کو اس سے محفوظ رکھے۔تو جس کوضرورت ہے وہ اپنی طرف سے پوری کوشش کرے۔اگر اور کوئی کام نہیں ملتا تو مزدوری کرے۔آخر بڑے بڑے کبار صحابہ جب ہجرت کر کے مدینہ میں آئے تو بعض انصار نے کہا کہ ہمارے پاس مال ہے آؤ مل کر بانٹ لیں۔انہوں نے کہا ہمیں تمہارا مال نہیں چاہیے درانتی ہے کلہاڑی ہے اور رسہ ہے جنگل سے لکڑیاں کاٹ لاؤں گا اور انہیں بیچ کر گزارہ کروں گا۔تو ایسا بزرگ صحابی مدینہ میں آکر ذا متربة ہوگا کیونکہ اس کے کپڑے گرد آلود ہوں گے۔تو مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو ہمیں اللہ تعالیٰ نے یہ کہا کہ مانگنے سے دوسرے کا سہارا لینے سے