خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 11 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 11

خطبات ناصر جلد دہم 11 خطبہ عیدالفطر ۱۳ جنوری ۱۹۶۷ء جو خدا کی مغفرت کے احاطہ کے اندر حاصل کی جاتی ہے۔تو یہاں اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ فَكُ رَقَبَةٍ کے سامان تو تھے مگر انسان نے اس طرف توجہ نہیں دی اور وہ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا اور اس نے ان سامانوں سے فائدہ نہیں اٹھایا اور غلام کا غلام ہی رہا حالانکہ ہم نے ماہ رمضان کی عبادتوں کو خاص طور پر اس کے لئے اس لئے مقرر کیا تھا کہ اگر وہ کوشش کرے اور سعی کرے اور مجاہدہ کرے اور ہماری راہ میں قربانیاں دے اس طرح پر کہ ہمارے لئے بھوکا رہے۔ہماری خاطر ہمارے بھو کے بندوں کو کھانا کھلائے تو وہ اپنی گردن کو شیطان کی غلامی سے آزاد کرواسکتا تھا۔وہ ان زنجیروں سے آزاد ہوسکتا تھا جن کا ذکر قرآن کریم میں آیا ہے۔ذرعُهَا سَبْعُونَ ذِرَاعًا (الحاقة : ۳۳) که بڑی لمبی زنجیر میں جہنم کے قید خانہ میں ڈالی جائیں گی لیکن اس نے ان سامانوں کے ہوتے ہوئے بھی ، ان کی موجودگی میں بھی اپنی گردن کو شیطان کی غلامی سے آزاد نہیں کیا۔اسی طرح ایک اور ذمہ داری اس کے اوپر تھی اور وہ یہ تھی کہ اپنے بھائیوں کو بھوک کی اور شیطان کی غلامی سے آزاد کرے۔قرآن کریم نے یہاں الفاظ بھوک کے رکھے ہیں لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی وضاحت سے بتایا ہے گادَ الْفَقْرُ أَنْ يَكُونَ كُفْرًا کہ بھوک جو ہے وہ کبھی کفر اور ضلالت پر منتج ہوتی ہے۔بھوک کے نتیجہ میں انسان بسا اوقات شیطان کے دامِ فریب میں آجاتا ہے اور اپنے رب کو چھوڑ دیتا اور بھول جاتا ہے اور خدا تعالیٰ کو رزاق سمجھنے کی بجائے وہ شیطان کے پاس اس شرط پر اپنی روح کو بیچ دیتا ہے (جیسا کہ ہماری بعض کہانیوں میں شیطان کے پاس روح کو بیچنے کا ذکر بھی ہے کہ وہ شیطان کے پاس اپنی روح کو اس شرط پر بیچتا ہے ) کہ وہ اس کو دنیوی اموال اور اسباب اور متاع مہیا کرے گا اور اس کی روح شیطان اس لئے خرید لیتا ہے کہ خدا کو یہ کہہ سکے کہ میں نے کہا تھا اے رب ! کہ میں تیرے بندوں کو بہکاؤں گا۔دیکھ! یہ تیرا بندہ تھا مگر تیرا بندہ نہیں بنا۔اور دیکھ! میں اس کی روح کو جہنم میں پھینک رہا ہوں۔اس کو میں نے اس قدر گمراہ ، طافی اور منکر اور سرکش بنادیا ہے کہ تیرے غضب کا مورد ہو گیا ہے۔تیرے قہر کی تجلی نے جلا کر اسے کوئلہ کر دیا ہے۔تو بھوک بسا اوقات کمزور دل میں کفر پیدا کرتی ہے۔اس لئے اگر چہ اللہ تعالیٰ نے یہاں