خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 10
خطبات ناصر جلد دہم 1۔خطبہ عیدالفطر ۱۳ جنوری ۱۹۶۷ء جو اس کے رب نے اس کے لئے مہیا کئے ہیں تو اس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل کو وہ کچھ اس طرح جذب کرتا ہے کہ اس کی رحمت کا وارث بن جاتا ہے۔اس کے حصہ میں اپنے رب کی مغفرت آتی ہے اور اس کی گردن شیطان کی غلامی سے آزاد کر دی جاتی ہے اور اسے نارِ جہنم سے بچا لیا جاتا ہے۔آخری سپارے کی جو آیات میں نے اس وقت پڑھی ہیں ان میں بھی یہی مضمون ہے کہ ہم نے انسان کے لئے ایسے سامان پیدا کئے ہیں کہ اگر وہ ان کو پہچانتا اور ہمارے بتائے ہوئے طریق پر عمل کرتا تو اس کے لئے ممکن تھا کہ وہ روحانی بلندیوں کو حاصل کرتا چلا جاتا لیکن ان تمام سامانوں کے باوجود اور اس ہدایت کے باوجود جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ بنی نوع انسان پر نازل کی۔اس نے اس طرف توجہ نہیں کی۔فَلَا اقْتَحَمَ الْعَقَبَةَ اور ان روحانی بلندیوں تک اس نے پہنچنے کی کوشش نہیں کی جن روحانی بلندیوں تک پہنچنے کے لئے اس کے لئے سامان مہیا کئے گئے تھے۔پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جب ہم نے یہ کہا کہ اس نے روحانی بلندیوں تک پہنچنے کی کوشش نہیں کی تو اس سے ہمارا مطلب یہ ہے کہ نہ اس نے اپنی گردن شیطانی غلامی سے آزاد کی اور نہ اس نے یہ کوشش کی کہ اس کے بھائیوں کی گردنیں بھوک کی غلامی اور شیطان کی غلامی سے آزاد ہو جائیں۔اس کے ایک معنی یہ بھی کئے جاتے ہیں کہ غلاموں کو آزاد کرنا، اپنی جگہ پر یہ معنے درست ہیں لیکن فك رقبة اور عِشق مِنَ النَّارِ کے الفاظ وضاحت کے ساتھ ایک ہی مضمون کی طرف اشارہ کر رہے ہیں۔تو اگر چہ اس میں بھی بڑا ثواب ہے کہ ان لوگوں کو انسان آزادی کی فضا مہیا کرے یا آزادی کی فضا مہیا ہونے میں ان کی امداد کرے۔جو انسان ظلم اور اپنی غفلت کے نتیجہ میں غلام بن چکے ہیں لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایک اس سے بھی زیادہ مظلوم اور قابلِ رحم غلام ہے جس کو آزاد کرنا اور کروانا ہمارے لئے زیادہ ثواب کا موجب ہے اور زیادہ رحمت کا موجب ہے اور زیادہ مغفرت کا موجب ہے اور وہ اپنا نفس ہے۔جب وہ شیطان کا غلام بن جاتا ہے اور خدا کی دی ہوئی آزادی سے محروم کر دیا جاتا ہے یعنی وہ آزادی جو خدا کے قرب میں حاصل کی جاتی ہے۔وہ آزادی جو خدا کی رحمت کے سایہ میں حاصل کی جاتی ہے۔وہ آزادی