خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 228 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 228

۲۲۸ خطبہ عیدالاضحیه ۹/اکتوبر ۱۹۸۱ء خطبات ناصر جلد دہم پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ کہ تم خدا کے حکم پر چلتے ہوئے اللہ کی ،صرف اللہ کی اطاعت دنیا میں قائم کرنا چاہتے ہو مگر مشرکوں پر یہ تعلیم قرآنی بڑی گراں گذرتی ہے اور تو بلا تا صرف قرآن کریم کی تعلیم کی طرف ہے۔پھر یہ سولویں آیت آگئی جس میں وَاسْتَقِہ کا حکم تھا فَلِذلِكَ فَادْح یہ یہاں سے شروع ہوتی ہے آیت۔پس تو اس دین کی طرف لوگوں کو پکار پکار کر بلا۔اوپر جس کا ذکر آیا ہے اطاعت خالص اللہ کی کرنی ہے۔صرف قرآن کریم کی جو وحی ہے اس کی پیروی کرنی ہے۔دوسری جگہ فرمایا ان اتبع إلَّا مَا يُوحَى إلى (الانعام : ۵۱) فَلِذلِكَ فَادْعُ۔پس تو اس دین کی طرف لوگوں کو پکار پکار کر بلا اور وَاسْتَقِم كما أمرت اور خود ان کے سامنے اپنا نمونہ پیش کر۔ایک ہے دعوت دینا تبلیغ کرنا۔دلائل دے کر، نشان ان کے سامنے رکھ کے۔اللہ تعالیٰ نے بڑے نشان دیئے ہیں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ، بے حد و بے شمار نشان۔دلائل دیئے ہیں بڑے وزنی دلائل، لیکن ان کے علاوہ و اسْتَقِمْ كَمَا اُمِرْتَ - ایک کامل اسوہ اور نمونہ ان کے سامنے پیش کر۔اس دین پر استقلال سے قائم رہ جس طرح تجھے حکم دیا گیا ہے گیا اُمرت۔اور قرآن کریم کی وحی کے مقابلہ میں ان لوگوں کی وہ خواہشیں جو قرآن کریم کی تعلیم میں بگاڑ پیدا کرنے کی ہیں ان کی طرف توجہ نہ کر اور کہہ دے کہ اللہ نے اپنی کتاب سے جو کچھ اتارا ہے میں صرف اس پر ایمان لاتا ہوں۔یہ ایک علیحدہ مضمون ہے انشاء اللہ مجھے توفیق ملی کہ قرآن کریم کو قرآن کریم کے نہ ماننے والوں نے ایک منصو بہ یہ بھی بنایا کہ اس میں کوئی رد و بدل کیا جائے مختلف۔قرآن کریم کی وحی اور تعلیم پر مختلف جہات سے حملے کئے تاکہ کسی طرح اس کے اندر کوئی ردو بدل ہو۔وہ لمبا مضمون ہے۔وہ میرے آج کے مضمون کا حصہ نہیں۔فرمایا خواہشوں کی پیروی نہ کر اور کہہ دے وہ خواہشیں اگلا فقرہ بتاتا ہے کہ وہ خواہشیں کیا ہیں۔کہہ دے کہ اللہ نے اپنی کتاب میں جو کچھ اتارا ہے میں اس پر ایمان لاتا ہوں۔تمہاری خواہشوں کی پیروی کر کے خدا تعالیٰ کے کسی حکم کی عدم اطاعت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔الله رَبُّنَا وَ رَبُّكُمُ (الشوری: (۱۶) قرآن کریم نے ہماری ربوبیت کا سامان بھی کیا تھا تمہاری ربوبیت کا سامان بھی کیا تھا کیونکہ كافة لِلنَّاسِ بَشِيرًا وَ نَذِيرًا (سبا: ٢٩) ہو کر