خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 227
خطبات ناصر جلد دہم ۲۲۷ خطبہ عیدالاضحیه ۹/اکتوبر ۱۹۸۱ء پندرھویں فرمایا تھا کہ جس امر میں تم اختلاف کرو گے یعنی قرآن کریم کی وحی اور وہ ایک گروہ کا فیصلہ یا فتویٰ یا رائے یا بعض لوگوں کی روایتیں جب وہ متضاد ہو جا ئیں قرآن کریم سے تو فیصلہ اللہ تعالیٰ نے کرنا ہے۔یہاں ظاہر ہے کہ فیصلہ سے مراد یہ ہے کہ فرمایا تھا کہ جو قرآن کریم کے احکام کو ، اللہ کے دین کو قائم کرے گا، خدا کی اطاعت کو قائم کرے گا۔خدا تعالیٰ کی کن امور میں اطاعت۔قرآن کریم کے احکام، اوامر و نواہی میں جو اطاعت کرے گا وہ دین اسلام، یہ جو ہمارا دین ہے اسلام۔صراط مستقیم ہے اس کے اوپر خدا کی نگاہ میں وہ قائم ہونے والا ہے اور جو دوسری جگہ بڑی وضاحت سے بیان کیا اور یہاں بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ جو اطاعت کرے گا وہ اطاعت کا پھل پائے گا۔اللہ تعالیٰ اسے انعام دے گا۔یہ تو نہیں کہ جو خلوص نیت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرنے والا ہو اللہ تعالیٰ اسے دھتکار دے اور پرے پھینک دے۔ایسا نہیں ہوگا۔کیونکہ اس کے وعدہ کے خلاف ہے۔ٹھیک ہے اگر ہمارے بظا ہر عمل صالح میں کوئی خرابی ہوگی۔کوئی نقص ہوگا۔کوئی بیماری ہوگی۔کوئی حکم کے ادا کرنے سے انکار کا کوئی پہلو چھپا ہوا ہو گا اس کے اندر تو انعام نہیں ملے گا۔تو فر ما یا کہ جو اختلاف تم کرو گے قرآن کریم کی وحی اور اس کی اطاعت کے معاملہ میں اس کا فیصلہ اللہ نے کرنا ہے جو عَلَامُ الْغُيُوبِ ہے۔جو صفات پہلے ذکر ہو چکی ہیں اسی سورۃ میں۔ان صفات سے اور دوسری صفات حسنہ سے متصف ہے وہ صحیح فیصلہ کرنے والا ہے۔وہ جلدی فیصلہ کرنے والا ہے اور فیصلہ کی طاقت رکھنے والا ہے اس کے فیصلہ سے کوئی بچ نہیں سکتا۔اس واسطے اطاعت کرو گے انعام پاؤ گے۔اطاعت سے باہر نکل جاؤ گے۔فسق اور فجور کی راہوں کو اختیار کرو گے انعام نہیں پاؤ گے بلکہ سزا پاؤ گے۔فرمایا کہ یہ ہے تمہارا اللہ جو میرا بھی رب ہے۔یہ ہے تمہارا اللہ تمام صفات حسنہ سے متصف یہاں خدا تعالیٰ کی ذات اور خدا تعالیٰ کی ایک بنیادی صفت کا ذکر کیا گیا۔اپنی ذات میں وہ کامل اور ہمارے ساتھ اس کا ربوبیت کا تعلق ہے یعنی استعداد میں دیں۔ان کی نشوونما کے سامان پیدا کئے۔میں اس پر تو گل کرتا ہوں اور اسی کی طرف جھکتا ہوں۔