خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 229 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 229

خطبات ناصر جلد دہم ۲۲۹ خطبہ عیدالاضحیه ۹/اکتوبر ۱۹۸۱ء نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔اللہ ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ابدی صداقتوں پر مشتمل یہ شریعت صرف ہماری ربوبیت نہیں کرتی بلکہ چونکہ نوع انسانی کی طرف نازل ہوئی ہے اس لئے تمہاری ربوبیت کے لئے بھی آئی ہے اور اس سے محروم رہنا بھڑکتی ہوئی آگ ہے اس سے تمہیں بچنا چاہیے۔تو آج کی قربانی جسے ہم آج یاد کرتے ہیں اس کی ابتدا حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہما السلام کی قربانی سے شروع ہوئی جو ایک حکم کی اطاعت تھی اِفْعَلُ مَا تُؤْمَرُ یہاں سے بنیاد رکھی گئی ہے اور اپنے عروج کو پہنچی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظیم قربانی پر۔آپ کو یہ نہیں کہا گیا کہ اس ایک حکم کی اطاعت کر۔آپ کو یہ کہا گیا ہے کہ قرآن کریم کی وحی کے ہر حکم کی اطاعت کرو اور دوسری جگہ کہا گیا ہے تم بھی اطاعت کرو اور جو تمہارے متبع ہیں وہ بھی اطاعت کریں قرآن کریم کی وحی کی۔وحی کے ہر حکم، ہر امر ، ہر نبی کی اطاعت کرنے والے ہیں تم اور تمہارے ماننے والے۔یہ قربانی ہے۔جسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی کے عروج تک پہنچایا اور پھر قربانی کو عروج تک پہنچایا اس وقت تو آپ خدا تعالیٰ کے حضور جھکے ہوئے تھے نا۔پھر رسول ہونے کے لحاظ سے کیونکہ خدا نے آپ کو کافة للناس کہا۔آپ نے نوع انسانی کی طرف منہ کیا اور قیامت تک کے انسان کو کہا کہ سنو! میں تمہارے لئے ایک ایسی تعلیم لایا ہوں جو تمہاری عزت و شرف اور رفعت اور بزرگی اور بلندی ، خدا تعالیٰ کے پیار کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے اور میرے نمونے کو دیکھو۔خدا تعالیٰ نے جو مجھے طاقت اور استعداد دی تھی اس کی صحیح نشو ونما اسی کی توفیق سے میں نے پائی اور جو قربانی اس نے مانگی وہ میں نے اس کے حضور پیش کر دی اور خدا تعالیٰ نے اپنا فضل کیا کہ عرش رب کریم کے اوپر مجھے لا بٹھایا اپنے پہلو میں۔یہ محاورے ہیں ہمارے اسلام کے۔تم ساتویں آسمان سے اوپر نہیں جاسکتے لیکن ساتویں آسمان تک پہنچنے کا ہر دروازہ اے افراد نوع انسانی! تم پر کھلا ہے اپنی اپنی استعداد کے مطابق۔اپنے پہ ظلم نہ کرو اور اس عظمت سے محروم نہ رہ جاؤ جس عظمت کو لے کر میں تمہارے سامنے آیا ہوں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جو قربانی ہے اس کا چند فقروں میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان الفاظ میں ذکر کیا