خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 200 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 200

خطبات ناصر جلد دہم ۲۰۰ خطبہ عید الاضحیہ ۲؍دسمبر ۱۹۷۶ء پس ہماری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مسلم ممالک کو قوت اور طاقت اور فراست اور ترقی اور خوشحالی بخشے اور ہماری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے ملک کو بھی طاقت اور خوشحالی دے اور سمجھ اور عقل اور فراست عطا کرے اور خدا اپنی قرب کی راہیں اس ملک کے بسنے والوں پر آسان کر دے اور روشن کر دے اور وہ اس کو سمجھیں اور پہچانے لگیں اور خدا تعالیٰ کی طرف ان کی توجہ ہو جائے اور خدا کے سامنے وہ جھکنے لگیں اور خدا کی طرف ان کی حرکت ہو، نہ ایسی حرکت جو اس سے دور لے جانے والی ہو۔ہماری یہ بھی دعا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ ہماری نسلوں کو نیکی اور تقویٰ پر قائم رکھے اور ہمیں اور ہماری نسلوں کو ہمیشہ اس بات کی توفیق عطا کرتا رہے کہ ہم سعی مقبول کرنے والے ہوں ہم ان راہوں پر گامزن رہیں جن راہوں پر خدا کا نور بکھرا ہوا ہے اور جن راہوں پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضا انسان حاصل کرتا ہے۔خدا کرے ہمارے دل میں سوائے خدائے واحد و یگانہ کی محبت کے کوئی اور محبت اور تعلق قائم نہ رہے۔وہ ایک ہی ہمارا مقصود ہو اور ہم میں سے ہر ایک کی صرف زبان ہی نہیں بلکہ اس کے جسم کا رواں رو آں اور اس کی روح کی یہ پکار ہومولا بس۔مولا بس۔مولا بس۔خطبہ ثانیہ کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔اب ہم دعا کریں گے اور پھر رخصت ہوں گے اس مقام عید اور مقام برکت سے اس دعا کے ساتھ کہ جہاں بھی ہم ہوں اللہ تعالیٰ کی رحمتیں اور برکتیں ہم پر سایہ کئے رکھیں اور ہمارا احاطہ کئے رکھیں۔روزنامه الفضل ربوه ۲۱ جنوری ۱۹۷۷ء صفحه ۲، ۳) 谢谢谢