خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 199
خطبات ناصر جلد دہم ۱۹۹ خطبہ عید الاضحیہ ۲؍دسمبر ۱۹۷۶ء خوشحالی کے سامان سوائے اسلامی تعلیم کے اور کہیں نہیں پائے جاتے۔اس غرض کو پورا کرنے کے لئے ہماری چھوٹی سی جماعت اپنی سمجھ اور طاقت کے مطابق زور لگا رہی ہے اور اللہ تعالیٰ اس کو بہت سی کامیابیاں بھی عطا کر رہا ہے۔یہ چھوٹی سی جماعت اپنے عرفان کے مطابق عاجزانہ طور پر خدا کے حضور جھکتی ہے اور اس سے دعائیں مانگتی ہے اور یہ یقین رکھتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے چونکہ آسمانوں پر یہی فیصلہ کیا ہے کہ اس زمانہ میں اسلام دنیا میں غالب ہو اس معنی میں نہیں کہ لوگوں کی گردنیں اس کے سامنے جھک جائیں بلکہ اس معنی میں کہ انسانی دل اس کے سامنے جھک جائے۔ہمیں امید ہے کہ اللہ تعالیٰ ہماری دعاؤں کو قبول کرے گا اس وجہ سے کہ آسمانوں پر فیصلہ ہو چکا ہے اور جو فیصلہ ہوا ہے اس کے ثواب میں خدا تعالیٰ ہماری شرکت کے سامان پیدا کر دے گا۔ہم اللہ تعالیٰ سے پہلے بھی یہی دعا کرتے ہیں اور اب بھی ہماری یہی دعا ہے اور آئندہ بھی یہی دعا ر ہے گی کہ اللہ تعالی اسلام کی روشنی کو دنیا میں پھیلانے کی ہمیں تو فیق عطا فرمائے۔اللہ تعالیٰ انسانوں کو اس قابل بنادے کہ وہ اسلام کی محبت بھری تعلیم اور امن بھرے پیغام کو سمجھنے لگیں اور اس سے فائدہ اٹھانے والے بن جائیں اور سارے اکٹھے ہوکر خدا کے جھنڈے تلے جمع ہو جا ئیں۔ہماری یہ بھی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے اکناف عالم میں بسنے والے مسلمانوں کی بھلائی کے سامان پیدا کرے اور ان کی مضبوطی کے سامان پیدا کرے اور ان کے استحکام کے سامان پیدا کرے اور ان کے اندر روح اسلام کو تازہ کرنے اور زندہ کرنے اور زندہ رکھنے کے سامان پیدا کرے اور ہم عاجز بندوں کی کسی غفلت کے نتیجہ میں پرے نہ دھتکار دے بلکہ خدا کرے شیطان کا وار ہم پر کبھی کامیاب نہ ہو اور وہ جو خدا اور اس کے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے وہ ہم سے پیار جیتنے میں کامیاب نہ ہو بلکہ جس طرح وہ ہمارے محبوب آقا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دشمن ہے اسی طرح ہم اور ہماری نسلیں اس شیطان کو اپنا دشمن سمجھتے رہیں اور دم نہ لیں اور چین نہ پائیں اور سکھ کی نیند نہ سوسکیں جب تک کہ ہم ہر اس شیطانی تدبیر کو جو اسلام کے خلاف ہمیشہ سے چلی آ رہی ہے اور اب زمانہ ہے کہ اس کو مٹادیا جائے ، اس کو مٹا نہ دیں اور اسلام دنیا میں غالب نہ آجائے۔