خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 172
خطبات ناصر جلد دہم ۱۷۲ خطبہ عید الاضحیہ ۱۶ / جنوری ۱۹۷۳ء اس روحانی بادشاہت کے لئے جو عاجز بندے تیار کئے گئے ہیں وہ آپ لوگ ہیں۔اس عظیم مقصد کے سامنے میری اور آپ کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔اگر ہمارے وجود کو پیسا جائے اور ذرہ ذرہ کر دیا جائے اور ہمارے اپنے ہی خون میں اس کا گارا تیار کیا جائے اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قلعہ کو مضبوط کرنے اور اس کی دیواروں کو وسیع وعریض کرنے کے لئے اس گارے کو وہاں استعمال کر دیا جائے تو یہ ہمارے لئے فخر کی بات ہے لیکن اگر دنیا یہ مجھتی ہے کہ وہ دنیا کی دولت، دنیا کی عزتوں، دنیا کے اقتدار اور دنیا کے ہتھیاروں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی اس تقدیر کو ٹال سکتی یا مٹاسکتی یا کمزور کر سکتی ہے تو یہ اس کی غلط نہی ہے، یہ اس کی بھول ہے۔ایسا نہیں ہوگا کیونکہ خدا جو قادر و توانا خدا ہے، جو سب طاقتوں کا مالک خدا ہے اور جو اپنے امر پر بھی غالب ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔اس کا یہ فیصلہ ہے کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آئے گا اور یہ غلبہ احمدیت کے ذریعہ مقدر ہے۔پس آج دنیا میں ایک ہی صداقت ہے اور ایک ہی بنیادی حقیقت ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلام ساری دنیا پر غالب آئے گا۔اللہ تعالیٰ کا یہ فیصلہ ہے کہ تمام انسانوں کو ایک جھنڈے تلے جمع کر دیا جائے گا۔یہ جھنڈ ا حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا ہے۔تمام بنی نوع انسان کو خواہ وہ دنیا کے کسی دور دراز خطہ میں رہائش پذیر کیوں نہ ہوں ایک ہاتھ پر جمع کر دیا جائے گا۔یہ ہاتھ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ہے۔جس کے بارہ میں خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ یہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کا ہاتھ نہیں یہ میرا ہاتھ ہے۔خدا تعالیٰ کے اس ہاتھ کا اثر ، اس کی قوت قدسیہ اور اس کی طاقت اب بھی ویسے ہی ظاہر ہوگی جیسے قرونِ اولیٰ میں ظاہر ہوئی تھی۔یہ بنیادی صداقت اور یہ بشارت ہم سے (جو احمدیت کی طرف منسوب ہونے والے ہیں ) قربانی چاہتی ہے، وہی قربانی جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بیٹے اور اولا د نے خدا کے حضور پیش کی تھی۔حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے روحانی بیٹوں اور فرزندوں سے بھی اسی قربانی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔اس قربانی کے لئے آپ تیار ہو جائیں تا کہ اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کے وارث بنیں۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو حقیقی قربانیوں کے پیش کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔