خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 83 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 83

خطبات ناصر جلد دہم ۸۳ خطبہ عیدالفطر ۲۵ ستمبر ۱۹۷۶ء فرما کر ہمارے لئے خوشی کا سامان کیا۔دوسرے یہ کہ یہ عید خوشی کا آخری مرحلہ نہیں ہے بلکہ اس کے بعد خوشیوں کا ایک اور مرحلہ ہمارا انتظار کر رہا ہے اور اب ہم نے اس کی طرف بڑھنا اور بڑھتے چلے جانا ہے۔اس کے بعد حضور انور نے عید کے بعض عظیم تر مواقع کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔جمعہ اور عیدین ہی نہیں اللہ تعالیٰ نے مومنوں کے لئے بار بار عید کے سامان پیدا کرنے کی غرض سے بعض اور عظیم تر مواقع بھی بہم پہنچائے ہیں۔ان میں سے ایک مجدددین کے ظہور کا سلسلہ ہے۔ہر صدی کے سر پر مجددین کا ظاہر ہونا دراصل اسی لئے تھا کہ وہ مومنوں کو ازسر نو حقیقی اسلام کے راستہ پر گامزن کر کے انہیں ایک عظیم تر حقیقی عید کا وارث بنا ئیں۔ان کا آنا تجد ید واحیاء دین کی شکل میں عید ہی کا آنا ہوتا تھا۔پھر اللہ تعالیٰ نے آخری زمانہ میں مسیح اور مہدی کے ظہور کی شکل میں ایک بہت ہی عظیم الشان عید کا سامان کیا اور وہ ہے مسیح و مہدی موعود کی بعثت کے ذریعہ اسلام کا ساری دنیا میں غالب آنا۔امت کو اتنی بڑی اور اتنی عظیم خوشی پہلے کبھی نہیں ملی تھی اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے بموجب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کے ایک فرزند جلیل کی حیثیت سے مبعوث ہو کر اعلان فرما یا کہ خوش ہو اور خوشی سے اچھلو کیونکہ غلبہ اسلام کا دن قریب آ گیا ہے۔اس سب سے بڑی اور سب سے عظیم الشان عید کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے ذریعہ رکھی جاچکی ہے چنانچہ اس وقت سے ہی اس عید کے آثار نمایاں سے نمایاں تر ہوتے چلے آرہے ہیں۔حضور انور نے فرمایا:۔جس طرح رمضان کے روزوں کی مشقت برداشت کر کے اور دیگر عبادات بجالا کر عید کی تیاری کی جاتی ہے۔اسی طرح اس عظیم ترین اجتماعی عید کی تیاری بھی ہوتی چلی آرہی ہے۔اس تیاری کے پیش نظر ہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ یہ اجتماعی عید تین سوسال کے اندر اندر اپنے کمال کو پہنچے گی۔آثار اور قرائن کو دیکھ کر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ قیام جماعت کی پہلی صدی مکمل ہونے کے بعد دوسری صدی شروع ہونے کے ساتھ ہی عالمگیر غلبہ اسلام کی