خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 82 of 906

خطباتِ ناصر (جلد 10۔خطبات عیدین و نکاح) — Page 82

خطبات ناصر جلد دہم ۸۲ خطبہ عیدالفطر ۲۵ ستمبر ۱۹۷۶ء پھر حضور انور نے فرمایا:۔اگر چہ ان آیات میں جو میں نے ابھی تلاوت کی ہیں عید کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ہے تا ہم حقیقی عید کی تمام مسرتیں اس میں جمع کر دی گئی ہیں۔ایک مومن کی حقیقی عید یہی ہوتی ہے کہ اسے خدا کا پیار مل جائے۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر رجوع برحمت ہونا اور انہیں فوز و فلاح کی شکل میں جنتوں کی بشارتوں سے نواز نا ہی اصل عید ہے۔ادھر عید کہتے ہی بار بار آنے والی خوشی کو ہیں اسی لئے اللہ تعالیٰ نے ایک نہیں مومنوں کے لئے کئی عید میں مقرر کی ہیں جو بار بار ظاہر ہوکر ایک مومن کو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کے پیار کی بشارتوں سے نوازنے کا موجب بنی ہیں۔ان متعد د اور بار بار آنے والی عیدوں کی وضاحت کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا :۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کو بھی عید قرار دیا ہے اور عید کے حقیقی مفہوم کے پیش نظر اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے کہ اس میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے کہ اس میں جو دعا مانگی جائے خدا تعالیٰ اسے قبول کر کے اپنے بندے کو اس کی مراد عطا کر دیتا ہے۔اس طرح اللہ تعالیٰ ہر جمعہ کے روز اپنے مومن بندوں کو یہ موقع دیتا ہے کہ ہفتہ کے دوران نیکیاں بجالانے میں جو کمی رہ گئی ہو وہ اس کمی کو جمعہ کے اجتماع میں شریک ہو کر اور اللہ تعالیٰ کے حضور دعائیں مانگ کر پورا کرلیں اور اس طرح اللہ تعالیٰ کے پیار کی شکل میں حقیقی عید سے ہمکنار ہوں اور ہر ہفتہ ہی عید کی خوشیاں حاصل کرتے چلے جائیں۔اسی طرح عید الفطر اور عید الاضحیہ بھی خدا تعالیٰ کے فضلوں کو جذب کرنے اور خوشیاں منانے کے مواقع کی حیثیت رکھتی ہیں۔عیدین کی شکل میں یہ مواقع ہر سال آتے اور مومنوں کو حقیقی خوشیوں سے معمور کر دکھاتے ہیں۔حضور انور نے عید کی حقیقت اور اسلام کی مقرر کردہ مختلف عیدوں کے ذریعہ اس حقیقت کے پورا ہونے پر تفصیل سے روشنی ڈالنے کے بعد اس سے نہایت لطیف استدلال کرتے ہوئے مزید فرمایا اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ہر عید مومنوں کے لئے دو پیغام لاتی ہے ایک یہ کہ ہم نے خدا کی رحمت کا مورد بنے اور اس کے پیار کو پانے کے لئے جو کوششیں کیں خدا نے انہیں قبول