خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 69 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 69

60 69 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 فروری 2011ء خطبات مسرور جلد نهم حسن صاحب، مکرم راڈین صالح صاحب، مکرم دحلان صاحب (Dahlan)۔ان چھ احباب نے سنگا پار ناویسٹ جاوا کے گاؤں میں شہادت کا مقام پایا۔وہابی موومنٹ کے دارالاسلام نامی ایک گروپ نے ڈنڈوں اور پتھروں سے اِن احمدیوں پر شدید حملہ کیا اور اُن کو گھروں میں اہل خانہ کی آنکھوں کے سامنے بڑی بے دردی سے مارتے مارتے گھسیٹتے ہوئے گاؤں سے باہر لے گئے اور مار مار کر شہید کر دیا۔دارالا سلام گروپ نے حملہ سے قبل اُن کو مجبور کیا کہ احمدیت چھوڑ دیں لیکن یہ سب احمدیت پر ثابت قدم رہے۔استقامت دکھائی۔احمدیوں کے ساتھ وہاں جو سلوک ہو رہا ہے یہ ظالمانہ فعل بہت پرانے ہیں۔اس کے دو سال بعد 1949ء میں درج ذیل احمدی احباب نے جام شہادت نوش فرمایا۔مکرم سانوسی صاحب(Sanusi)، مکرم اومو صاحب (Omo)، مکرم تحیان صاحب(Tahyan)، مکرم سہرو می صاحب (Sahromi)، مکرم سوما صاحب (Soma)، مکرم جملی صاحب (Jumli)، مکرم سرمان صاحب (Sarman)، مکرم اوسون صاحب (Uson) اور مکرمہ ایڈوٹ صاحبہ (Idot) اور مکرمہ اونیہ صاحبہ (Uniah) دوخواتین کو بھی شہادت کا اعزاز حاصل ہوا۔ان احمدی احباب نے سنگا پارنا ویسٹ جاوا کے گاؤں SANGIANG LABONG میں شہادت کا مقام پایا۔ان کو بھی وہابی تحریک کے گروپ دار الاسلام نے ڈنڈوں ، پتھروں اور اینٹوں سے حملہ کر کے شہید کیا۔ان کو بھی گھسیٹتے ہوئے گاؤں سے باہر لے گئے اور وہاں انتہائی ظالمانہ طریق سے مارتے مارتے شہید کر دیا گیا۔اِن کو بھی مجبور کیا گیا کہ احمدیت سے توبہ کریں لیکن ان سب نے انکار کیا اور استقامت دکھائی اور ثابت قدم رہے۔پھر اس کے بعد جماعت احمدیہ کی مخالفت کا ایک شدید دور 2001ء میں شروع ہوا جس میں مکرم پاپوک حسن صاحب (Papuq Hasan) کو 22 جون 2001ء میں شہید کیا گیا۔آپ کی عمر پچپن سال تھی اور قریباً ایک سو مخالفین احمدیت نے مغربی لمبوک کے ایک گاؤں لالوا“ (Laloaw) کی جماعت پر حملہ کیا۔مخالفین، جماعت کی مسجد کو تباہ کرنا چاہتے تھے۔پاپوک حسن صاحب دیگر احمدی احباب کے ساتھ مخالفین کے حملہ کے سامنے سینہ سپر ہو گئے اور شدید زخمی ہوئے اور بیہوش ہو کر گر گئے۔فوراً ہسپتال لے جایا گیا لیکن بہت زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے راستے میں جام شہادت نوش فرمالیا۔2002ء میں حکومت کے کارندے بھی ان ظالموں کے ساتھ مل گئے اور مختلف قسم کے ظلم ہوتے رہے۔مانسلور (Manislor) کے علاقے میں مخالفین نے احمدیہ مساجد اور احمدی گھروں میں پتھراؤ کیا۔دو مساجد اور بیالیس (42) احمدی گھروں کے شیشے وغیرہ توڑے۔لوکل گورنمنٹ نے جماعت مانسلور کی مساعی کو روکنے کے لئے آرڈر جاری کیا کہ احمدی احباب مسجد کا استعمال نہیں کر سکتے۔15 جولائی 2005ء کو جماعت انڈونیشیا کی مرکزی مسجد اور سینٹر پر سینکڑوں مخالفین کے گروہ نے حملہ کیا اور جماعتی عمارات اور املاک کو نقصان پہنچایا۔پولیس کھڑی تماشا دیکھتی رہی۔بعض عمارتوں کو آگ لگائی گئی۔اور سارا سینٹر ، مساجد، مشن ہاؤسز، ذیلی تنظیموں کے دفاتر اور دیگر عمارات کو حکومت نے سیل (Seal) کر دیا۔یہ حکومت بھی اب ان کے ساتھ شامل ہو رہی ہے۔