خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 70
خطبات مسرور جلد نهم 70 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 فروری 2011ء 19 ستمبر 2005ء کو پانچ سو مخالفین نے ریجن سیانجور (Cianjur) کی پانچ جماعتوں پر حملہ کیا۔پانچوں جماعتوں کی مساجد کو کافی نقصان پہنچایا گیا۔دروازے، کھڑکیاں، شیشے توڑے گئے۔مشن ہاؤسز کو بھی نقصان پہنچایا گیا اور سامان وغیرہ لوٹ لیا گیا۔بہت ساری چیزیں جلا دی گئیں۔چھیاسی (86) گھروں کو نقصان پہنچایا اور توڑ پھوڑ کی گئی۔بعض گھروں کو جلا دیا گیا۔سامان لوٹ لیا گیا۔بعض مقامات پر احمد یہ مدرسوں کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ان جماعتوں میں احمدی احباب کی کاریں موٹر سائیکل بھی جلائے گئے۔19 اکتوبر 2005 ء رات نو بجے سو مخالفین جماعت نے کیا پانگ (Kitapang) پر حملہ کیا۔تین احمدی گھروں کو نقصان پہنچایا۔دو احمدی دوست زخمی ہوئے۔اس جماعت کے احباب قبل ازیں پانکور (Pancor) اور سیلونگ(Selong) کے علاقے میں مقیم تھے جہاں 2002ء میں مخالفین نے حملہ کر کے ان کو مسجد اور گھروں سے نکال دیا تھا اور ان کے گھروں کو بھی جلا دیا اور مسجد کو بھی جلا دیا تھا۔چنانچہ یہ وہاں سے ہجرت کر کے کیٹا پانگ (Kitapang) کے علاقے میں آئے تو ان پر اکتوبر 2005ء میں یہاں بھی حملہ کیا گیا۔ہر جگہ سے تکلیفیں برداشت کیں لیکن پھر بھی اپنے ایمان پر ثابت قدم رہے۔فروری 2006ء میں مغربی لمبوک جزیرہ کی جماعت کیٹا پانگ (Kitapang) پر حملہ ہوا۔تیس(23) گھروں کو نقصان پہنچا۔چھ گھر جلا دیئے گئے۔احباب جماعت کی دکانوں کو نقصان پہنچایا گیا۔سامان لوٹ لیا گیا۔ان کے مال مویشی لوٹ لئے گئے۔129 احباب جماعت بے گھر ہوئے اور یہ علاقہ چھوڑنا پڑا۔10 نومبر 2007ء کو پنگوان (Pangauban) گاؤں میں لوکل مولوی کی قیادت میں مدرسوں کے طلباء نے ہماری مسجد کو گرادیا اور 26 احمدیوں کو یہاں سے دوسرے علاقے میں منتقل ہونا پڑا۔ستمبر 2007ء میں مسجد محمود سنگا پارانہ (Singa Parana) پر مخالفین کی طرف سے اس ماہ میں تیسرا حملہ ہوا۔مساجد کی تمام کھڑکیاں توڑ دی گئیں۔چھت کو بھی نقصان پہنچایا۔دفتری سامان اور فرنیچر توڑ دیا گیا۔18 دسمبر 2007ء میں مخالفین نے جن کی تعداد 500 سے زائد تھی مانسلور (Manislor) جماعت پر حملہ کیا۔مخالفین کا تعلق ڈیفنس فرنٹ اور مجلس مجاہدین انڈونیشیا سے تھا۔جماعت کی دو مساجد کو نقصان پہنچایا۔توڑ پھوڑ کی گئی اور جہاں مسجد کے سامان کو نقصان پہنچا یا بارہ (12) قرآن کریم بھی جلا دیئے۔9 مساجد کو پولیس نے سیل ( Seal) کر دیا۔گھروں کو نقصان پہنچایا گیا۔توڑ پھوڑ کی گئی۔تین افراد زخمی ہوئے۔بہر حال اس وجہ سے لوگوں کو وہاں سے نکلنے پر مجبور کیا گیا اور اب تک مختلف جگہوں پر یہی حالات ہیں۔تو (جماعت) انڈونیشیا کے ساتھ یہ سابقہ حالات ہو رہے ہیں لیکن اللہ کے فضل سے وہ ایمان کی مضبوطی دکھاتے ہوئے ایمان پر قائم ہیں اور ہر شر کا صبر سے، حوصلے سے، دعا سے مقابلہ کرتے چلے جا رہے ہیں۔اب یہ تازہ شہادتیں جو ہوئی ہیں یہ اس جاری ظلم کا ہی نتیجہ ہیں جو کئی سال پہلے سے شروع ہوا تھا۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا اس دفعہ مقامی پریس نے بھی کھل کر لکھا ہے اور باہر کی پریس نے بھی لکھا ہے اور اس کی کافی شہرت ہوئی ہے۔