خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 68 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 68

خطبات مسرور جلد نهم 68 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 فروری 2011ء جد وجہد آزادی کے ضمن میں اُس زمانہ میں سر انجام دیں۔وزارت اطلاعات کی قیادت میں شعبہ پبلسٹی کے رکن ہونے کی پوزیشن میں جناب موصوف نے ہمیشہ اپنی دماغی قابلیت اور دیگر صلاحیتوں سے پورے یقین و وثوق سے بین الا قوامی رائے عامہ کو اس طرف مبذول کرایا کہ حکومت ریپبلک انڈونیشیا کی جد وجہد صداقت اور حق پر مبنی ہے۔پھر لکھا ہے کہ جن دنوں ڈچ حکومت نے جو گ جا کر تا دارالحکومت انڈو نیشیا پر حملہ کر کے قبضہ کیا اس زمانہ میں بھی جناب موصوف نے ہماری جدوجہد میں پوری امداد جاری رکھی۔(پھر لکھتے ہیں کہ) یو۔این۔او کے فیصلہ کی روشنی میں جاکرتا سے جب ڈچ افواج کا انخلاء ہوا اور نئی حکومت جوگ جا کر تا منتقل ہوئی اُس وقت بھی جناب موصوف اُس کمیٹی کے ممبر تھے جو حکومت ریپبلک انڈونیشیا کے از سر نو قیام کیلئے بنائی گئی تھی۔پھر اسی سند میں لکھا ہے کہ جب پریذیڈنٹ سوئیکارنوڈچ حکومت کی نظر بندی کے بعد جوگ جا کر تا آئے تو موصوف اس کمیٹی کے بھی ممبر تھے جس نے صدر سوئیکارنو کا استقبال کیا۔پھر اس سند میں لکھتے ہیں کہ ڈچ حکومت سے اختیارات لینے کے بعد صدر سوئیکار نوجب جا کر تا آئے تو موصوف بھی اس قافلہ میں شامل تھے جو صدر سوئیکارنو کے ہمراہ تھا اور موصوف واحد غیر ملکی تھے۔جب حکومت کے دفاتر جوگ جا کر تہ منتقل ہوئے تو بعد میں موصوف ریڈیور پبلک انڈونیشیا کے شعبہ نشر و اشاعت سے منسلک ہو کر اُردو کے پروگرام میں نہایت عمدگی سے فرائض سر انجام دیتے رہے۔بعد میں اپنے فرائض بحیثیت انچارج احمد یہ مسلم مشن انڈو نیشیا انجام دینے لگے۔انڈونیشیا کے پہلے صدر جن کا ذکر آیا ہے کہ انہوں نے قرآنِ کریم بھی پڑھا تو احمدیوں سے پڑھا، وہ اپنی کتاب جس کا نام انڈو نیشین میں Di Bawa Bendera Revolusi ہے، تحریر کرتے ہیں کہ ”اگرچہ میں احمدیت کے بعض مسائل سے متفق نہیں بلکہ انکار کرتا ہوں، تب بھی اس کی تعلیمات اور اس کے فوائد کا احسان مند ہوں جو مجھے اس کی طرف سے تحریرات کی شکل میں حاصل ہوئے اور جو عقل اور جدید تقاضوں کے عین مطابق اور وسعت ذہن پید ا کرنے والے ہیں“۔(صفحہ 346) تو یہ ہے اس کی تفصیل۔یہ زبانی قربانیاں یا عملی قربانیاں ہی نہیں تھیں یا صرف مشورے کی حد تک نہیں بلکہ 1946ء میں تحریک آزادی کے دوران بعض احمدی احباب اپنی زندگیاں قربان کر کے شہیدوں میں شامل ہوئے۔جن میں ایک ہمارے مکرم راڈین محی الدین صاحب صدر جماعت انڈونیشیا جو سیکرٹری کمیٹی برائے انڈونیشیا بھی تھے ، انڈونیشیا کے پہلے جشن آزادی کی تیاریوں میں مصروف تھے کہ آپ کو ڈچ افواج نے اغوا کر لیا اور بعد میں آپ کو شہید کر دیا۔تو ملکی آزادی میں احمدیوں کا خون بھی شامل ہے۔یہ تو جماعت احمدیہ کی انڈونیشیا کے لئے ، اس ملک کے لئے قربانی اور کام اور خدمات کا ذکر ہے۔لیکن علماء اور شدت پسند گروپوں نے ، گروہوں نے اپنے ظلموں کی داستانیں بھی ساتھ ساتھ جاری رکھیں۔بعض پرانے شہدائے احمدیت انڈو نیشیا کا میں ذکر کر تاہوں۔1947ء میں درج ذیل 6 (چھ) احمدی احباب شہید کئے گئے۔مکرم جائید صاحب (Jaed) ، مکرم سورا صاحب ( Sura)، مکرم سائری صاحب (Saeri)، مکرم حاجی