خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 644 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 644

خطبات مسرور جلد نهم 644 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2011ء فضل سے اس فرستادہ خدا کے ہاتھ سے ہاتھ ملانے سے نہ صرف ہم کو الہام کا علم ہوا اور (نہ) صرف کشف کا علم ہوا اور نہ صرف رویائے صادقہ کا علم ہو ابلکہ ان تینوں کو ہم نے اپنے اوپر وارد ہوتے دیکھا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود جلد 7 صفحہ 154- 155 غیر مطبوعہ روایت۔حضرت خیر دین صاحب) یہ انقلاب تھا جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیدا فرمایا۔حضرت خلیفۃ المسیح الاول کے بارے میں بھی آتا ہے ناں، کئی دفعہ ہم سن چکے ہیں کہ جب اُن سے کسی نے پوچھا حضرت مولوی صاحب آپ تو پہلے ہی بڑے بزرگ تھے ، آپ کو حضرت مرزا صاحب کی بیعت میں آکے کیا ملا۔حضرت خلیفہ اول نے جواب دیا۔دیکھو اور تو بہت سارے فائدے ہیں وہ تو ہیں ہی، ایک فائدہ میں تمہیں بتا دیتا ہوں۔پہلے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار خواب میں کیا کرتا تھا، اب کھلی آنکھیں جاگتی حالت میں کشفی حالت میں کر تا ہوں تو یہ انقلاب ہے جو مجھ میں مرزا صاحب نے پیدا کیا۔(ماخوذ از حیات نور از مولانا عبد القادر صاحب (سابق) سود اگر مل) صفحه 194 مطبوعہ ربوہ) تو حضرت خیر دین صاحب لکھتے ہیں کہ اب ہم حق الیقین کے طور پر ان باتوں کی حقیقت بیان کر سکتے ہیں۔مثلاً میں نے مبارک مسجد میں بیٹھے ہوئے غالباً ظہر کا وقت تھا، ایک یہ الہام پایا کہ أُولَبِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ۔اس میں یہ بتایا کہ اس جماعت کے لوگ ہی فلاح پانے والے ہیں۔سو ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو معمولی سی حیثیت کے لوگ نظر آتے ہیں اُن کا آخری انجام اچھا ہو رہا ہے اور ان سے اچھے اچھے کام بھی ہو رہے ہیں اور اُن کی دعاؤں میں ایک خاص اثر معلوم ہوتا ہے۔پھر میں نے ایک دفعہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ تیر ا قرب پانے کے لئے کو نساطریق اچھا ہے ( یہ دیکھیں ان لوگوں کی کس طرح کی خواہشات تھیں، اللہ تعالیٰ سے تعلق تھا اور تعلق کو بڑھانے کے لئے کیا کیا جتن کرتے تھے، دعا کر رہے ہیں کہ اللہ تعالیٰ تیرا قرب پانے کے لئے کو نسا طریق ہے) تو خاکسار کو اللہ تعالیٰ نے یہ جواب دیا کہ ہمارا قرب حاصل کرنے کے دو طریق ہیں۔یا چندہ دو یا تبلیغ کرو۔یہ دو طریق ہم کو پسند ہیں۔( یہ جواب آیا ) تو میں نے عرض کی کہ اے اللہ ! میں تو اتنا پڑھا ہوا نہیں۔(آپس میں بیٹھے اللہ تعالیٰ سے یہ باتیں ہو رہی ہیں، میں تو اتنا پڑھا ہوا نہیں)۔میں تبلیغ کس طرح کروں؟ اللہ تعالیٰ نے پھر جواب دیا اور فرمایا کہ قرآنِ شریف تو تم کو ہم نے پڑھا دیا ہے۔جب یہ فقرہ جناب الہی نے فرمایا تو مجھ سے اس وقت یہ آیت حل ہوئی کہ وَمَا رَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللہ رھی۔کیونکہ جب میں اپنے گاؤں میں تھا تو اس وقت مجھے جناب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خواب میں ملے تھے ( اس کا پہلی خواب میں ذکر ہوا تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ تم قادیان آجاؤ۔ہم تمہیں قرآن شریف پڑھا دیں گے۔اب دیکھئے کہ وعدہ تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا مگر جواب خدا تعالیٰ نے دیا کہ ہم نے تجھے قرآن شریف پڑھا دیا ہے۔سو خاکسار دیکھ رہا ہے کہ اپنی قابلیت کے مطابق اب خدا تعالیٰ کے فضل سے جو قرآن شریف پڑھنا چاہے اُسے پڑھا سکتا ہوں۔چنانچہ آج کل مہمان خانے میں صبح کے وقت گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹہ