خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 643 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 643

643 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم (کیونکہ اندھیرا تھا) مگر وہ شیخ صاحب پھر نہیں بولے۔حضور نے دوبارہ خود ہی فرمایا کہ ہمارے مولویوں کو اتنے اتنے مختصر فقرے بحث میں استعمال کرنے چاہئیں۔یعنی انہوں نے کہا عجیب بات ہے کہ مسیح پرندے بنایا کرتا تھا، پیدا کیا کرتا تھا، جانور بنایا کرتا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ خدا بھی خالق (خالق ہونا تو خدا کی صفت ہے) اور مسیح بھی خالق۔کہ تم مسلمان ہو کر بھی اس شرک کے مر تکب ہو رہے ہو۔پھر فرمایا کہ اتنے مختصر فقرے بعض دفعہ تبلیغ میں کام آتے ہیں۔فرمایا ” کیونکہ لمبی بحث میں بات خلط ملط ہو جاتی ہے۔“ اس کے بعد حضرت خیر دین صاحب لکھتے ہیں کہ میں اپنے گاؤں واپس چلا گیا۔مجھے قرآنِ شریف پڑھنے کا بہت شوق تھا۔حضور نے ایک دن مجھے رویا میں فرمایا ( قرآنِ شریف پڑھنے کا شوق تھا ایک دن خواب آئی اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا) کہ تم قادیان آجاؤ ہم تم کو قرآنِ شریف پڑھا دیں گے۔(تو یہ انہوں نے خواب دیکھی اور اُس وقت یہ خواب دیکھی جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وصال ہو چکا تھا، آپ وفات پاچکے تھے) کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے ایک اور خواب دیکھا اور وہ یہ کہ میں ہجرت کر کے آگیا ہوں، اُس جگہ جہاں اب محلہ ناصر آباد بنا ہوا ہے۔( ہجرت کر کے قادیان آگیا اور وہاں آ کے اُترا ہوں جہاں آجکل محلہ ناصر آباد ہے ) اس میدان میں میں اپنا سامان اتار رہا ہوں اور میں نے پوچھا کہ اس جگہ کا نام کیا ہے ؟ تو آسمان سے آواز ایک شکل کے رنگ میں آرہی تھی، گویا کہ وہ کوئی ٹھوس چیز تھی جس کی شکل وصورت فٹبال جیسی تھی اُس میں سے یہ آواز نکل رہی تھی کہ اس جگہ کا نام ابراہیمی جنگل ہے جہاں تم اپنا سامان اتار رہے ہو۔گویا خاکسار کو اللہ تعالیٰ نے حضرت صاحب کا نام ابراہیم بتایا۔اس وقت مجھے معلوم نہ تھا یہ جو حضرت صاحب نے فرمایا ہے کہ۔میں کبھی آدم، کبھی موسیٰ، کبھی یعقوب ہوں نیز ابراہیم ہوں نسلیں ہیں میری بے شمار (ماخوز از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود جلد 7 صفحہ 154 غیر مطبوعہ۔روایت حضرت خیر دین صاحب) تو یہ کہتے ہیں مجھے اللہ تعالیٰ نے آواز دے کے یہ پیغام دیا اور تب مجھے پتالگا یہ نام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے باتوں کی، ناموں کی، الہامات کی تائیدات کے نظارے اللہ تعالیٰ آپ کے صحابہ کے ذریعے سے دکھاتا تھا۔پھر حضرت خیر دین صاحب مزید فرماتے ہیں کہ میں کسر نفسی سے نہیں کہتا بلکہ حقیقت ہے کہ میں گناہ گار تھا۔یہ جواب بیان کرنے لگاہوں یہ یقینا یقینا نور نبوت سے ہو گا نہ کہ میری طرف سے، کیونکہ آپ نے فرمایا ہے کہ میں وہ ہوں نورِ خدا جس سے ہوا دن آشکار تو یہ یقینی بات ہے جو نور سے تعلق پیدا کرے گا اُس کو نور سے ضرور حصہ ملے گا۔ہاں یہ بھی بات نہایت واضح ہے کہ وہ نور اپنی اپنی قابلیت کے مطابق ملتا ہے۔(مولوی صاحب، حضرت خیر دین صاحب کہتے ہیں کہ) ہمیں یہ معلوم ہی نہ تھا کہ الہام کس کو کہتے ہیں، کشف کس کو کہتے ہیں، رویائے صادقہ کیا ہوتی ہے۔اب خدا تعالیٰ کے