خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 645 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 645

645 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم قرآن شریف ترجمے کے ساتھ پڑھاتا ہوں۔جب خدا تعالیٰ نے یہ کہا تھا کہ ہم نے تجھے قرآن شریف پڑھا دیا تو ساتھ یہ بھی فرمایا تھا کہ تم نے عاد اور ثمود کے قصے قرآن شریف میں نہیں پڑھے ؟ ایک رکوع پڑھا اور لوگوں کو سنا دیا کہ نبیوں کی نافرمانی کرنے والوں کا کیا حال ہوتا ہے ؟ اسی طرح دعا کے بارے میں جناب الہی نے یہ فرمایا کہ تم گھی بہت کھایا کرو۔تو میں نے عرض کیا گھی کھانے سے کیا مراد ہے؟ تو جناب الہی نے تیسرے دن جواب دیا کہ گھی کھانے سے مراد بہت دعا کرنا ہے۔یہ فقرے پنجابی زبان میں عنایت فرمائے کہ جس گھر میں دعا ہوتی ہے وہ گھر موجوں میں رہتا ہے۔پھر یہ بھی آواز سنی کہ جس کے ساتھ خدا بولتا نہیں وہ مسلمان نہیں ہے۔( پس ہمیں بھی اگر موجیں کرنی ہیں تو اپنے گھروں کو دعاؤں سے بھرنا ہو گا) فرماتے ہیں: کیا میرے جیسا آدمی یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ یہ میری طاقت سے ہیں۔بلکہ صاف معلوم ہو جائے گا کہ یہ نور نبوت سے ہے۔چنانچہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہی فقرہ دہرا دیتا ہوں فرماتے ہیں۔میں وہ پانی ہوں جو آیا آسماں سے وقت پر میں وہ ہوں نورِ خدا جس سے ہوا دن آشکار (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود جلد 7 صفحہ 155-156 غیر مطبوعہ۔روایت حضرت خیر دین صاحب) پھر حضرت حافظ نبی بخش صاحب ولد حافظ کریم بخش صاحب موضع فیض اللہ چک کے رہنے والے ہیں۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زیارت حضرت مسیح موعود کے دعوی سے پہلے ہی کی تھی اور بیعت بھی ابتدائی زمانے میں کی۔حکیم فضل الرحمن صاحب مبلغ افریقہ جو حافظ صاحب کے بیٹے تھے ، وہ لکھتے ہیں کہ آپ کے اندر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے لئے ایک عشق موجود ہے اور طبیعت میں احتیاط ایسی ہے کہ جب کبھی کوئی حضور علیہ السلام کے حالات سنانے کے لئے کہے تو یہی جواب دیتے ہیں کہ مجھے اپنے حافظے پر اعتبار نہیں، ایسا نہ ہو کہ کوئی غلط بات حضور کی طرف منسوب کر بیٹھوں۔آپ محکمہ نہر میں پٹواری تھے اور گر داوری کے دنوں میں قریباً سارا سارا دن گھومنا پڑتا حتی کہ جیٹھ ، ہاڑ کے مہینوں میں بھی (یعنی مئی، جون کے ، جو سخت گرمی کے مہینے ہوتے ہیں میں بھی گھومنا پڑتا اور اس سے جس قدر تھکاوٹ انسان کو ہو جاتی ہے وہ بالکل واضح ہے ، مگر رات کو آپ تہجد کے لئے ضرور اٹھتے اور ہم پر بھی زور دیتے ( اپنے بچوں کو بھی کہتے) جب رمضان کے دن ہوتے تو باوجود اس قدر گرمی کے روزے بھی با قاعدہ رکھتے۔سردی کے دنوں میں تہجد کی نماز بالعموم قراءت جہری سے پڑھ کر بچوں کو ساتھ شامل فرمالیتے۔( آپ خدا کے فضل سے حافظ قرآن تھے) ہمیں نماز روزے کی بہت تاکید فرماتے بلکہ کڑی نگرانی فرماتے۔(اور یہی والدین کا کام ہے) اور شستی پر بہت ناراض ہوتے۔قرآنِ کریم ہمیں خود پڑھایا۔جب دن کو اپنے کاروبار میں مشغولیت کے باعث وقت نہ ملتا تو رات کو پڑھاتے۔ہم تین بھائی تھے۔ہم سب میں سے بڑا عبد الرحمن رضی اللہ عنہ قادیان میں تعلیم پانے کی حالت میں ہی غالباً 1907ء میں فوت ہوا اور باقی ہم دونوں کو بھی مجھے اور عزیزم حبیب الرحمن بی اے کو والد صاحب جبکہ ان کی عمر 12-13 سال تھی، حافظ نور محمد صاحب ساکن فیض اللہ چک اور حافظ حامد علی صاحب مرحوم رضی اللہ عنھما کے ساتھ جبکہ حضور براہین احمد یہ تصنیف فرما