خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 639
خطبات مسرور جلد نهم 639 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2011ء خط والا وظیفہ تھا جب انہوں نے بیعت کا خط لکھا اور یہ نظم لکھی تو اُس میں ساتھ یہ بھی خط میں لکھا کہ حضور مجھے کوئی وظیفہ بتائیں جو میں کیا کروں، تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اُن کو ایک وظیفہ لکھ کے دیا کہتے ہیں جب میں نے زبانی پوچھا تو تب بھی وہی وظیفہ تھا۔میں حیران ہوا کہ حضور کا حافظہ کتنا تیز ہے کہ جو وظیفہ لکھنے کے لئے ارشاد فرمایا وہی زبانی بھی فرمایا۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود غیر مطبوعہ جلد 11 صفحہ 209-210 روایت حضرت مولوی صوفی عطا محمد صاحب) اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آپ کو وظیفہ یہ لکھا تھا اور وہاں زبانی بھی فرمایا کہ وظیفے کا آپ پوچھ رہے ہیں تو کسی اور وظیفے کی ضرورت نہیں ہے ، درود شریف کثرت سے پڑھا کریں۔الحمد شریف کثرت سے پڑھا کریں۔استغفار کثرت سے کیا کریں اور قرآنِ شریف کا گہری نظر سے مطالعہ کریں اور پڑھیں اور باقاعدہ تلاوت کریں۔یہی وظیفہ ہے جو کامیابیوں کا راز ہے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود غیر مطبوعہ جلد 11 صفحہ 209 روایت حضرت مولوی صوفی عطا محمد صاحب) بہت سے لوگ مجھے بھی خط لکھتے رہتے ہیں، اُن کو اکثر میں اسی رہنمائی کی وجہ سے عموما یہ بتاتارہتا ہوں اور ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی لکھا ہے کسی کو کہ لاحول بھی پڑھا کریں۔لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ الْعَلِيُّ الْعَظِیم۔یہ دعا بھی پڑھنی چاہئے۔(مکتوبات احمد جلد 2 صفحہ 291 مکتوب بنام حضرت نواب محمد علی خان صاحب مکتوب نمبر 80 مطبوعہ ربوہ) تو یہی ہیں جو انسان کو اللہ تعالیٰ کا قرب دلاتے ہیں۔پھر ایک روایت ہے حضرت خلیفہ نورالدین صاحب سکنہ جموں کی۔یہ خلیفہ نورالدین صاحب جمونی تھے۔یہ کسی کو غلط فہمی نہ ہو کہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول کا نام ہے۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اور صحابی تھے وہ فرماتے ہیں کہ میں ایک دفعہ جموں سے پیدل براہ گجرات کشمیر گیا۔(گجرات کے راستے کشمیر گیا) راستے میں گجرات کے قریب ایک جنگل میں نماز پڑھ کر اللهُمَّ اِنّى اَعُوْذُبِكَ مِنَ الْهَةِ وَالْحُزْنِ والی دعا نہایت زاری سے پڑھی۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے میری روزی کا سامان کچھ ایسا کر دیا کہ مجھے کبھی تنگی نہیں ہوئی اور باوجود کوئی خاص کاروبار نہ کرنے کے غیب سے ہزاروں روپے میرے پاس آئے۔(ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود غیر مطبوعہ جلد 12 صفحہ 68 روایت حضرت خلیفہ نورالدین صاحب جھوٹی ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کرنے کے بعد آپ کی قوتِ قدسی سے ایسا انقلاب ان لوگوں میں پیدا ہوا۔یہ دعائیں کرتے تھے تو دعاؤں کی قبولیت بھی اللہ تعالیٰ حیرت انگیز طور پر دکھاتا تھا۔اس حالت میں کہ میں کبھی کسی سے نہ مانگوں، کبھی مجھے ہم و غم نہ ہو ، دعا کی تو کہتے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے کبھی مجھے مالی تنگی نہیں ہوئی۔پھر میاں شرافت احمد صاحب اپنے والد حضرت مولوی جلال الدین صاحب مرحوم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حالات بیان کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں کہ مولوی صاحب متوکل انسان تھے ، بیان کیا کرتے تھے کہ ہم کو