خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 640
640 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے خدا تعالیٰ خود ہی مہیا فرما دیتا ہے۔( عجیب تو گل ہے) ہمیں ضرورت نہیں ہوتی کہ کسی سے کہیں۔(یہ کبھی نہیں ہوا کہ کسی سے کچھ کہیں) کہا کرتے تھے کہ مجھے 19-1918ء میں انجمن نے ملازم رکھا اور بیس پچیس روپے دینے مقرر کئے (انجمن کا جو الاؤنس مقرر ہو اوہ اس وقت ہیں پچیس روپے تھا) تو ان دنوں غلہ بہت گراں تھا۔( یعنی گندم وغیرہ جو تھی بہت مہنگی ہو گئی تھی) خانصاحب منشی فرزند علی خان صاحب ناظر بیت المال فیروز پور میں تھے۔والد صاحب اُن کے ماتحت تھے۔ایک دن یہ کہہ بیٹھے (یعنی فرزند علی خانصاحب نے مولوی جلال الدین کو کہا کہ آپ کو تنخواہ ملتی ہے، اس لئے آپ تندہی سے کام کرتے ہیں۔( بہت محنت سے کام کرتے ہیں تنخواہ کی وجہ سے ) والد صاحب کہا کرتے تھے کہ یہ بات مجھے اچھی نہ لگی اور میں نے کہہ دیا کہ میں نے کیا ہیں کی وجہ یہ مجھے نہ اور دیا کہ میں نے آپ سے تنخواہ مانگی تھی۔( میں نے تو وقف کیا تھا، دین کی خدمت کے لئے پیش کیا تھا) جو الاؤنس مقرر کیا ہے وہ تو خود جماعت نے کیا ہے۔میں نے تو نہیں مانگا، میرا تو کوئی مطالبہ نہیں۔کہنے لگے میں نے ناظر بیت المال کو کہا کہ میں یہ الاؤنس اب نہیں لوں گا۔خانصاحب فرمانے لگے ( ناظر بیت المال تھے ) کہ کام پہلے کی طرح کرو گے یا اپنی رضی سے کرو گے۔یعنی تنخواہ تو نہیں لو گے لیکن کام بھی اُسی طرح کرو گے کہ نہیں جس طرح پہلے محنت سے کرتے تھے تو مولوی جلال الدین صاحب نے فرمایا کہ پہلے سے بھی زیادہ تندہی سے اور کامل اطاعت سے کام کروں گا۔محنت بھی پہلے سے زیادہ کروں گا اور پوری اطاعت کے ساتھ کام کروں گا۔کام اور اطاعت کا تنخواہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔یہ ملے نہ ملے میں نے تو دین کی خدمت کرنی ہے۔کہتے ہیں کہ یہ بات کہہ کر میں اپنے تبلیغی دورے پر چلا گیا۔پیدل جارہا تھا (سواریاں تو اُس وقت ہوتی نہیں تھیں۔عموماً مبلغین تبلیغی دورے پر جاتے تھے تو پیدل جایا کرتے تھے ) کہ رستے میں یہ خیالات آنے شروع ہو گئے کہ ان روپوں سے وقت کٹ جاتا تھا۔(جو الاؤنس ملتا تھا اس سے کچھ نہ کچھ ضروریات پوری ہو جاتی تھیں) آجکل تنگی ہے (گندم وغیرہ جو ہے وہ بھی مہنگی ہے تو اب کس طرح وقت کٹے گا۔( یہ خیالات آرہے تھے۔پھر دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان خیالات کے آنے کے بعد پھر اُن سے کیسا سلوک فرمایا۔کہتے ہیں کہ والد صاحب بیان کرتے تھے کہ میں انہی خیالات میں جار ہا تھا کہ ناگہاں ایک گرج کی سی آواز آئی۔(ایک خوفناک گرج کی آواز آئی) جس سے میرا دل دہل گیا۔(اور آواز کیا تھی ؟ اس زور دار آواز میں ایک پیغام آیا کہ آگے اتنی مدت تم کو کوئی تنخواہ دیتا آیا ہے، کیا تنخواہ لے کر تم اتنے بڑے ہوئے ہو یعنی اتنا عرصہ گزر گیا تم تنخواہ میں پلے بڑھے ہو، یہاں تک اس عمر تک پہنچے ہو ؟ ( کہتے ہیں ) اس آواز اور زجر کا میرے کان میں پڑنا ہی تھا کہ میرے تمام ہم و غم کا فور ہو گئے اور میں نے نہایت ہی عاجزی سے عرض کی کہ یا باری تعالیٰ مجھ کو ان کی تنخواہ کی کیا ضرورت ہے، تیرے مقابلے میں یہ کیا ہستی رکھتے ہیں۔اس کے بعد میر ا وقت آگے سے بھی اچھا گزرنے لگا۔(کہتے ہیں اُس کے بعد پھر ایسا ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اس طرح سنبھالا کہ پہلے سے بھی زیادہ اچھے حالات ہو گئے۔کہتے ہیں ) مولوی صاحب بیان کیا کرتے تھے کہ خانصاحب میرے دیرینہ دوست تھے۔یہ لفظ ویسے (ہی) ان کی زبان سے نکل گئے ( مذاق میں) جو کہ بعد میں تنخواہ والے شرک کو توڑنے کا باعث بنا۔(اس وجہ سے یہ شرک بھی میرے سے نکل گیا) (ماخوذ از رجسٹر روایات صحابہ حضرت مسیح موعود جلد 12 صفحہ 276-277 غیر مطبوعہ روایت حضرت مولوی جلال الدین صاحب بیان کردہ میاں شرافت احمد صاحب)