خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 638 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 638

خطبات مسرور جلد نهم 638 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 30 دسمبر 2011ء تھا۔سب کے سب ہمیں ایک غیر معمولی رنگ میں رنگین نظر آتے ہیں۔تو گل ہے تو وہ اپنی ایک شان رکھتا ہے۔خدمت دین کا جذبہ ہے تو وہ بے لوث اور عجیب شان والا ہے۔قرآنِ کریم سے تعلق ہے تو اس میں بھی گہرائی ہے، ایک محبت ہے، ایک پیار ہے۔اور پھر خدا تعالیٰ کا خود اُن کو قرآن سکھانا اور اُن کے دل و دماغ کو وہ عرفان عطا کر ناجو اُن کے خدا تعالیٰ سے خاص تعلق کی نشاندہی کرتا ہے یہ بھی اُن کا خاصہ ہے۔اور پھر اسی طرح دوسرے معاملات ہیں۔اللہ تعالیٰ کا اُن سے ہر معاملے میں ایسا سلوک ہے جو خدا تعالیٰ کا قرب پانے والوں سے ہی خدا تعالیٰ روا رکھتا ہے۔پھر ان روایتوں میں ہمیں اپنے صحابہ کی مجالس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ان کو مسائل کے حل کا طریق سکھانا یہ بتاتا ہے کہ فوری طور پر مختصر فقروں میں کس طرح جواب دینا ہے۔مختصر فقروں میں ایسی تربیت جس سے مقابل کا دلائل و براہین سے مقابلہ کر سکیں۔پس بہت ہی خوش قسمت تھے وہ لوگ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے چودہ سو سال بعد اس غلام صادق اور عاشق صادق کا زمانہ پایا۔جیسا کہ میں نے کہا میں رجسٹر روایات صحابہ سے بعض روایتیں آج بھی پیش کروں گا۔حضرت مولوی صوفی عطا محمد صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اخبار میں یہ پڑھا کہ حضرت اقدس جہلم تشریف لا رہے ہیں مگر مجھے تو جہلم جانے کی بھی اجازت نہ مل سکتی تھی۔ملازم تھے۔مگر میں بہت بیقرار تھا، گھر والوں کو میں نے کہا کہ کل اتوار ہے اور حضرت اقدس جہلم تشریف لائے ہیں، آپ کسی کو بتائیں نہیں، میں جاتا ہوں۔وقت گاڑی کا بالکل ننگ تھا اور تین میل پر سٹیشن تھا۔رستہ پہاڑی ( اور ) رات کا وقت۔دن کو بھی لوگوں کو اس طرف پر چلنا مشکل تھا لیکن ایک لگن تھی رات کے وقت بھی آپ نکل پڑے۔) کہتے ہیں کہ میں نے خدا پر تو کل کیا اور چل پڑا۔( اور ) اتفاق سے کوئی بھی تمام راستہ میرے آگے چلتی گئی، شاید کوئی اور آدمی بھی کہیں جارہا ہو گا ( اور ) خدا خدا کر کے پہاڑی رستہ دوڑتے ہوئے کلے کیا۔( فرماتے ہیں کہ کوئی بتی آگے چل رہی تھی شاید کوئی انسان جارہا ہو لیکن اللہ پر توکل کر کے چلے تھے، مسیح و مہدی کو ملنے کے لئے جارہے تھے تو یقینا اللہ تعالیٰ نے ہی انتظام فرمایا تھا کہ آگے آگے ایک بنتی چلتی گئی اور دوڑتے ہوئے وہ رستہ طے کر لیا۔) کہتے ہیں جب (میں) اسٹیشن پر پہنچا تو گاڑی بالکل تیار تھی، ٹکٹ لیا اور جہلم پہنچا، حضور کی زیارت سے مشرف ہوا۔وہاں ایک سیٹھ احمد دین تھے انہوں نے کہا کہ لطف تب ہے کہ آپ آج کوئی نظم سنائیں۔جب انہوں نے بیعت کی ہے تو اس وقت ایک نظم انہوں نے لکھی تھی جس میں دعائیہ الفاظ تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی خدمت میں انہوں نے بیعت کے خط کے ساتھ پیش کی تھی۔وہ ایک لمبی نظم تھی، تو انہوں نے مطالبہ کیا کہ آپ وہ نظم سنائیں۔تو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے اگر حضرت صاحب اجازت دیں تو میں سنا سکتا ہوں۔حضرت اقدس نے اجازت دے دی۔کہتے ہیں میں فورآکھڑا ہوا اور پورے جوش سے نظم سنائی اور اس نظم کا حاضرین پر ایسا اثر ہوا کہ کسی شخص نے کہا کہ آپ یہ نظم دے دیں تو میں نے کہا کہ میں نے تو زبانی پڑھی ہے۔نظم سنانے کے بعد حضور نے جو وظیفہ بتایاوہ بالکل