خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 619 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 619

خطبات مسرور جلد نهم 619 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2011ء والسلام کی مجلس میں ذکر کیا کہ حنفی مذہب میں صرف ترجمہ پڑھنا کافی سمجھا گیا ہے۔اس پر آپ نے فرمایا: اگر یہ امام اعظم کا مذہب ہے تو پھر ان کی خطا ہے۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 265 مطبوعہ ربوہ) ان کی وہ بات غلط تھی ، بیشک وہ امام ہیں انہوں نے اسلام کی بڑی خدمت کی ہے، بہت سارے مسائل اکٹھے کئے ہیں لیکن اگر انہوں نے یہ کہا ہے کہ صرف ترجمہ پڑھنا کافی ہے تو یہ غلط ہے۔بہر حال اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم کا اصل حفاظت کرنے کا ذریعہ بنا کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا ہے۔آپ نے اپنی جماعت کو قرآنِ کریم سمجھنے اور اس سے محبت کرنے کی بیشمار جگہ تلقین فرمائی ہے۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف قانونِ آسمانی اور نجات کا ذریعہ ہے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 130 مطبوعہ ربوہ) گو اس فقرہ کے سیاق و سباق میں ایک بحث کا ذکر چل رہا ہے جو آپ حضرت عیسی علیہ الصلوۃ والسلام کی قرآن شریف سے وفات ثابت کرنے کے لئے بیان فرما رہے ہیں لیکن یہ عمومی اصول بھی ہے کہ قرآن شریف قانونِ آسمانی ہے اور اس لحاظ سے نجات کا ذریعہ ہے۔ہم اگر دیکھیں تو دنیاوی قانون بھی صرف قانون بن جانے سے فائدہ نہیں دیتا جبتک کہ اُسے لاگو نہ کیا جائے اُس پر عمل درآمد نہ کروایا جائے۔اسی طرح قرآن کریم کا قانون بھی اُس وقت فائدہ مند ہے اور نجات دلانے والا ہے جب اُس پر عمل کیا جائے۔اگر اُس پر عمل نہیں ہو گا تو یہ نجات دلانے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔صرف پڑھ لینے اور عمل نہ کرنے سے نجات نہیں ہو سکتی۔خدا تعالیٰ کی رضا حاصل نہیں ہو سکتی۔اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور انعامات کے ہم وارث نہیں بن سکتے۔پس قرآنِ کریم کی تعلیم کو سمجھنا اور اُس پر عمل کرنا انتہائی ضروری ہے۔آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : یاد رکھو۔قرآن شریف حقیقی برکات کا سر چشمہ اور نجات کا سچا ذریعہ ہے۔یہ اُن لوگوں کی اپنی غلطی ہے جو قرآن شریف پر عمل نہیں کرتے۔عمل نہ کرنے والوں میں سے ایک گروہ تو وہ ہے جس کو اس پر اعتقاد ہی نہیں اور وہ اس کو خدا تعالیٰ کا کلام ہی نہیں سمجھتے۔یہ لوگ تو بہت دور پڑے ہوئے ہیں، لیکن وہ لوگ جو ایمان لاتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور نجات کا شفا بخش نسخہ ہے اگر وہ اس پر عمل نہ کریں تو کس قدر تعجب اور افسوس کی بات ہے۔ان میں سے بہت سے تو ایسے ہیں جنہوں نے ساری عمر میں کبھی اُسے پڑھا ہی نہیں۔پس ایسے آدمی جو خدا تعالیٰ کے کلام سے ایسے غافل اور لاپر واہیں، اُن کی ایسی مثال ہے کہ ایک شخص کو معلوم ہے کہ فلاں چشمہ نہایت ہی مصفی اور شیریں اور خنک ہے اور اس کا پانی بہت سی امراض کے واسطے اکسیر اور شفاء ہے۔یہ علم اس کو یقینی ہے لیکن باوجود اس علم کے اور باوجود پیاسا ہونے اور بہت سی امراض میں مبتلا ہونے کے وہ اس کے پاس نہیں جاتا تو یہ اس کی