خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 618
618 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم ضرورت ہے کہ تلاوت کے ساتھ اس کا ترجمہ بھی پڑھیں تا کہ اُس کے احکام سمجھ میں آئیں۔گھروں میں بچوں کے سامنے قرآنِ کریم کی تلاوت کے ساتھ اس کے سمجھنے ، اس کے ترجمے کے تذکرے اور کوشش بھی ہو، صرف تلاوت کی عادت نہ ڈالی جائے بلکہ ایسی مجلسیں ہوں جہاں قرآنِ کریم سے چھوٹی چھوٹی باتیں نکال کے بچوں کے سامنے بیان کی جائیں تاکہ اُن میں بھی شوق پیدا ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نماز اور قرآن کے ترجمے کو سمجھنا اور پڑھنا بڑا ضروری قرار دیا ہے۔لیکن صرف ترجمہ پڑھنا اور اصل عربی متن یا عبارت نہ پڑھنا اس کی اجازت نہیں ہے۔آپ نے فرمایا کہ: ”ہم ہر گز فتویٰ نہیں دیتے کہ قرآن کا صرف ترجمہ پڑھا جاوے، اس سے قرآن کا اعجاز باطل ہوتا ہے۔جو شخص یہ کہتا ہے (کہ صرف ترجمہ پڑھنا کافی ہے) وہ چاہتا ہے کہ قرآن دنیا میں نہ رہے۔“ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ 265 مطبوعہ ربوہ) پس یہی قرآن کریم کا اعجاز ہے اور یہ ایک بہت بڑا اعجاز ہے کہ اب تک اپنی اصلی حالت میں ہے اور اللہ تعالیٰ کا اعلان ہے کہ اِنَّا نَحْنُ نَزَلْنَا الذِّكْرَ وَ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر : 10) کہ یقینا ہم نے ہی یہ ذکر اتارا ہے اور یقینا ہم اس کی حفاظت کرنے والے ہیں۔اور یہ اعجاز جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ یہ اصلی عبارت میں عربی عبارت میں آج تک چلا آرہا ہے۔اور شدید سے شدید معترضین اور مخالفین اسلام جو ہیں وہ بھی اعتراف کئے بغیر نہیں رہتے کہ قرآنِ کریم اپنی اصلی شکل میں اپنی اصلی حالت میں آج تک محفوظ ہے، اگر صرف ترجموں پر انحصار شروع ہو جائے تو ترجمے تو ہم دیکھتے ہیں کہ ایک دوسرے سے بہت مختلف ہو رہے ہیں۔بلکہ جب ہم اپنا ترجمہ دنیا کے سامنے رکھتے ہیں تو وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ ترجمہ بالکل مختلف ہے کیونکہ غیروں نے صحیح ترجمے نہیں کئے ہوئے۔اسلام پر اعتراض کرنے والے ایک بہت بڑے پادری نے امریکہ میں قرآنِ کریم کے کچھ ترجموں (صرف ترجمے لئے تھے، عربی ٹیکسٹ نہیں لیا تھا، متن نہیں لیا تھا) اعتراض کر دیا کہ اسلام یہ کہتا ہے، اسلام یہ کہتا ہے اور قرآن یہ کہتا ہے۔اُس کو جب ہم نے اپنی تفسیر بھجوائی تو اُس کا جواب بھی اُس نے دیا اور بڑا پیچھا کرنے کے بعد یہی جواب تھا کہ میں نے جو ترجمے کئے ہیں وہ بھی مسلمانوں کے لکھے ہوئے ہیں۔تو بہر حال یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہی ہیں جنہوں نے ہمیں ترجمے میں بھی عربی متن کے قریب تر کر دیا اور اُس کے صحیح معنی اور معارف سکھائے ہیں۔یہاں ضمناً یہ بھی بتادوں کہ گزشتہ دنوں احمدیت پر کسی اعتراض کرنے والے کا اعتراض نظر سے گزرا جس میں اُس نے کہا تھا کہ اگر مرزا صاحب نبی تھے تو پھر انہوں نے اپنی جماعت کو یہ کیوں کہا ہے کہ امام ابو حنیفہ کی پیروی کرو۔تو اس کا جواب تو آپ کی تحریر کی رو سے بہت جگہ آیا ہوا ہے۔یہ قطعا کبھی کہیں نہیں کہا گیا کہ پیروی کرو، لیکن قرآنِ کریم کے حوالے سے بات کرتا ہوں یہ ایک حوالہ ہے، کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ