خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 620
خطبات مسرور جلد نهم 620 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 16 دسمبر 2011ء کیسی بد قسمتی اور جہالت ہے۔اسے تو چاہئے تھا کہ وہ اس چشمہ پر منہ رکھ دیتا اور سیر اب ہو کر اُس کے لطف اور شفا بخش پانی سے حظ اٹھاتا۔مگر باوجود علم کے اُس سے ویسا ہی دور ہے جیسا کہ ایک بے خبر۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 140 مطبوعہ ربوہ ) اللہ تعالیٰ ہمیں اس پیغام کو ان درد سے بھرے الفاظ کو سمجھتے ہوئے قرآن کریم کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔اسے سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے۔ہماری بیعت کا حقیقی حق اسی صورت میں ادا ہو گا جب ہم قرآنِ کریم کی تعلیم کو اپنے اوپر لاگو کریں گے اور قرآنِ کریم کی تعلیم یہ ہے جیسا کہ پہلے بیان ہوا کہ قرآنِ کریم میں بیان ہوئی ہوئی ہر برائی سے رکنا اور اس میں بیان شدہ ہر نیکی کو اختیار کرنا اور اس کو اختیار کرنے کی بھر پور کوشش کرنا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: قرآن شریف صرف اتنا ہی نہیں چاہتا کہ انسان ترک شر کر کے سمجھ لے کہ بس اب میں صاحب کمال ہو گیا، بلکہ وہ تو انسان کو اعلیٰ درجہ کے کمالات اور اخلاق فاضلہ سے متصف کرنا چاہتا ہے کہ اس سے ایسے اعمال و افعال سر زد ہوں جو بنی نوع کی بھلائی اور ہمدردی پر مشتمل ہوں اور اُن کا نتیجہ یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہو جاوے۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحه 208 مطبوعہ ربوہ) پس اگر ایک مومن کو قرآنِ کریم سے حقیقی محبت ہے تو وہ اس معیار پر خود بھی پہنچنے کی کوشش کرے گا اور کرتا ہے اور اپنے بچوں کو بھی وہاں تک لے جانے کی کوشش کرے گا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔شر اور برائی سے رکنا کوئی کمال نہیں، کسی بری حرکت سے رکنا، کسی شر سے رکنا یہ تو کوئی کمال نہیں ہے ، یہ ہمارا مطمح نظر نہیں ہونا چاہئے ، بلکہ ہمیں اپنے ٹارگٹ بڑے رکھنے چاہئیں اور اُس کے حصول کی کوشش کرنی چاہئے کہ قرآنِ کریم میں بیان ہوئی ہوئی تمام قسم کی نیکیوں کو اپنے اوپر لاگو کرنے کی کوشش کریں۔جب یہ کوشش ہر مرد، عورت اور بچے سے ہو رہی ہو گی تو ایک پاک معاشرے کا قیام ہو رہا ہو گا۔اس معاشرے کا قیام ہو گا جس کو اسلام قائم کرنا چاہتا ہے۔آئے دن جو اسلام اور قرآنِ کریم پر اعتراض کرنے والے ہیں اُن کے منہ بھی بند ہوں گے۔یہاں دو عورتوں کا آجکل بڑا شہرہ ہے۔جو اسلامی قوانین پر اعتراض میں حد سے بڑھی ہوئی ہیں، مختلف جگہوں پر وہ لیکچر وغیرہ دیتی رہتی ہیں۔گزشتہ دنوں خدام الاحمدیہ یو۔کے (UK) کی کوشش سے یو سی ایل (UCL) میں ایک مباحثہ ہوا ان کے ساتھ ایک ڈیبیٹ (Debate) کی صورت پیدا ہو ئی جو یونیورسٹی کی انتظامیہ نے آرگنائز کی تھی۔جس میں ان دو خواتین نے جو اُن کا طریقہ کا ر ہے اپنی طرف سے اسلام پر اعتراضات کی بڑی بھر مار کی، لیکن ہمارے خدام جن میں سے ایک پاکستانی اور یجن (Origin) کے ہیں اور یہاں ہمارے یو۔کے (UK) کے جامعہ میں پڑھتے ہیں، جامعہ کے طالبعلم ہیں، اور دوسرے ایک انگریز نواحمدی۔ان دونوں نے اُن کو ایسے مسکت اور مدلل جواب قرآنِ کریم سے اور قرآن شریف کی تعلیم کی رو سے دیئے۔اسلام کی حقیقی تعلیم کی رو