خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 605 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 605

خطبات مسرور جلد نهم 605 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2011ء کوڑوں کے تھیلوں میں ڈال دیں گے اور پھر کسی احمدی کا نام لگا دیں گے اور احمدی کے فرشتوں کو بھی علم نہیں ہوتا کہ یہ ہو کیا رہا ہے۔اُسے تو اس وقت پتا چلتا ہے جب پولیس اُس کے گھر اُس کو پکڑنے کے لئے آجاتی ہے یا اُس کے خلاف ان گندہ ذہنوں کے جلوس سڑکوں پر نکل رہے ہوتے ہیں یا پھر ان کا یہ بھی طریق ہے کہ سکولوں میں دیواروں پر ، غلط جگہ پر ، غلط طریقے سے ہمارے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جن کی عزت و ناموس پر ہر احمد کی اپنے آپ کو قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے بلکہ اپنی اولاد کو بھی قربان کرنے کے لئے ہر وقت تیار رہتا ہے۔آپ کا نام لکھ کر پھر سکول کے احمدی بچوں کا نام لگا دیا جاتا ہے۔اور بچوں کو سکول سے نکال دیا جاتا ہے اس وجہ سے ، اُن پر ظلم کئے جاتے ہیں، اُن کو مارا پیٹا جاتا ہے۔بلکہ ان معصوم بچوں پر ہتک رسول کے مقدمات قائم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے جس کی کوئی ضمانت بھی نہیں ہے اور سزا بھی انتہا کی ہے۔ایسی حرکت ہمارے احمدی معصوم بچوں کی طرف منسوب کی جاتی ہے جس کے متعلق وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے۔پس جب اخلاقی گراوٹ اس حد تک چلی جائے ، جب خدا تعالیٰ کا خوف دلوں سے بالکل ہی غائب ہو جائے، جب گھٹیا اور ذلیل حرکتوں کی انتہا ہونے لگے تو پھر مظلوموں کی آہیں اور فریادیں اور پکاریں بھی اپنا کام دکھاتی ہیں۔پس آجکل خاص طور پر پاکستان میں جو حالات ہیں، جن سے احمدی وہاں گزر رہے ہیں اس حالت میں جیسا کہ میں اکثر پہلے بھی کئی مرتبہ توجہ دلا چکا ہوں کہ اپنی دعاؤں کا محور صرف اور صرف ہمیں احمدیت یعنی حقیقی اسلام کی ترقی کو بنانا چاہئے تا کہ اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کی جلد پکڑ کرے جو خدا اور اسلام کے نام پر ظلموں کی انتہا کئے ہوئے ہیں۔خدا اسلام اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بد نام کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ہمیں ان دعاؤں کی طرف بھی توجہ دینی چاہئے کہ ان میں سے جو نیک فطرت ہیں اُن کو اللہ تعالیٰ توفیق دے کہ وہ زمانے کے امام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا سلام پہنچانے والا بنیں۔ہمارے مختلف پروگرام جو ایم ٹی اے پر آتے ہیں ان میں سے جو لائیو پروگرام ہیں ان میں کئی کالر (Callers) اللہ تعالیٰ کے فضل سے حقیقت کو سمجھ کر پھر بیعت بھی کر لیتے ہیں۔پس یہ نہیں کہ مسلمانوں میں سے اکثریت اس فساد اور ظلم کا حصہ ہے لیکن یہ بہر حال ہے کہ ایک اکثریت خوف اور لاعلمی کی وجہ سے احمدیت کے پیغام کو سمجھنا نہیں چاہتی یا اگر سمجھتی ہے تو ملکی قانون کی وجہ سے خوفزدہ ہے اور ملکی قانون ملاں کے خوف سے احمدی کو عام شہری کے حقوق دینے پر بھی تیار نہیں۔آجکل قانون کی حکمرانی نہیں ہے بلکہ ملاں کی حکمرانی ہے۔ملاں نے کم علم مسلمانوں کے دلوں میں یہ بات ڈال دی ہے کہ نعوذ باللہ احمدی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بجائے حضرت مرزا غلام احمدی قادیانی علیہ السلام کو آخری نبی مانتے ہیں جبکہ یہ بالکل غلط ہے۔ہم تو یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عاشق صادق تمام نبیوں کے حلل میں، تمام مذاہب کے ماننے والوں کو حضرت خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں ڈالنے کے لئے آیا ہے نہ کہ خود مقابلہ کرنے کے لئے اور آپ نے اپنے دلائل و براہین سے دنیا کے منہ بند کئے ہیں۔اسلام پر حملے کرنے والوں کے آگے ایک سیسہ پلائی دیوار کی طرح آپ کھڑے ہو گئے۔آپ نے دلائل و براہین سے نہ صرف اسلام پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملہ