خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 606 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 606

خطبات مسرور جلد نهم 606 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2011ء کرنے والوں کو روکا بلکہ انہیں پھر پسپا کیا۔بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ان دلائل و براہین کے ساتھ دشمن پر اس طرح حملہ آور ہوئے کہ اُس کو بھاگنے کے سوا کوئی چارہ نہیں رہا۔آپ کو الہام ہوا کہ قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا كُلُّ بَرَكَةٍ مِّنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَتَعَلَّمَ “ تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 265) یعنی کہہ حق آیا اور باطل بھاگ گیا اور یقینا باطل بھاگنے والا ہی تھا۔ہر ایک برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے پس مبارک ہے وہ جس نے تعلیم دی اور جس نے تعلیم پائی۔یہ الہامات اور اس کے ساتھ فارسی اور اردو کے اور الہامات بھی ہیں ، انہیں بیان فرمانے کے بعد آپ اپنی کتاب تریاق القلوب“ میں فرماتے ہیں کہ : ان تمام الہامات میں یہ پیشگوئی تھی کہ خدا تعالیٰ میرے ہاتھ سے اور میرے ہی ذریعہ سے دین اسلام کی سچائی اور تمام مخالف دینوں کا باطل ہونا ثابت کر دے گا۔سو آج وہ پیشگوئی پوری ہوئی کیونکہ میرے مقابل پر کسی مخالف کو تاب و تواں نہیں کہ اپنے دین کی سچائی ثابت کر سکے۔میرے ہاتھ سے آسمانی نشان ظاہر ہو رہے ہیں اور میری قلم سے قرآنی حقایق اور معارف چمک رہے ہیں۔اٹھو اور تمام دنیا میں تلاش کرو کہ کیا کوئی عیسائیوں میں سے یا سکھوں میں سے یا یہودیوں میں سے یا کسی اور فرقہ میں سے کوئی ایسا ہے کہ آسمانی نشانوں کے دِکھلانے اور معارف اور حقایق کے بیان کرنے میں میرا مقابلہ کر سکے۔میں وہی ہوں جسکی نسبت یہ حدیث صحاح میں موجود ہے کہ اسکے عہد میں تمام ملتیں ہلاک ہو جائیں گی۔مگر اسلام کہ وہ ایسا چکے گا جو در میانی زمانوں میں کبھی نہیں چمکا ہو گا“۔تریاق القلوب روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 267-268) پس اسلام کی خوبصورت تعلیم آج دنیا میں ہمیں آپ کے ذریعے سے پھیلتی نظر آرہی ہے۔آج آپ کی جماعت ہی ہے جو با قاعدہ نظم و ضبط کے ساتھ ایک نظام کے ماتحت خلافت کے سائے تلے تبلیغ اسلام کا کام سر انجام دے رہی ہے۔افریقہ میں تبلیغ اسلام ہو یا یورپ میں یا کسی بھی دوسرے براعظم میں، کسی بھی ملک میں، اسلام کی حقیقی تصویر جماعت احمد یہ ہی پیش کر رہی ہے۔میں نے جب جماعتوں کو کہا کہ دشمنانِ اسلام قرآن کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر حملے کر رہے ہیں تو قرآن کی نمائش لگائی جائے، قرآنِ کریم کی خوبصورت تعلیم کو واضح کیا جائے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے مختلف جگہوں پر نمائشیں لگیں اور لگ بھی رہی ہیں اور اس کے بعد دنیا سے ہر جگہ سے یہی رپورٹس آرہی ہیں کہ جو غیر لوگ آنے والے ہیں وہ دیکھ کے کہتے ہیں کہ جو قرآنی تعلیم اور جو اسلام تم پیش کر رہے ہو یہ تو اتنا خوبصورت اسلام ہے کہ ہمیں حیرت ہوتی ہے کہ ہم اس کی مخالفت کس طرح کر رہے تھے۔ہمارے سامنے تو اسلام کا یہ خوبصورت پہلو کبھی آیا ہی نہیں۔یہ ہماری لا علمی تھی، اکثروں کا بڑا معذرت خواہانہ لہجہ ہوتا ہے۔قرآنِ کریم اور دوسرا اسلامی لٹریچر لے کر جاتے ہیں۔ان نمائشوں میں آنے والے پڑھے لکھے ، سلجھے ہوئے، تعلیم یافتہ مسلمان بھی