خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 604 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 604

خطبات مسرور جلد نهم 604 49 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 09دسمبر 2011ء خطبہ جمعہ فرموده 09 دسمبر 2011ء بمطابق 09 فتح 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) - تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: مخالفین احمدیت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعوے سے لے کر آج تک نہ کسی دلیل کے ساتھ بلکہ اپنی ضد اور ہٹ دھرمی اور آنا اور مفادات کی وجہ سے آپ کے دعوے کو رد کر رہے ہیں، جبکہ اس کے مقابل پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہزاروں دلائل ازروئے قرآن، از روئے حدیث، از روئے اقوال و تفسیرات، صلحاء و علماء گزشتہ سے ثابت فرمایا کہ آپ ہی وہ مسیح اور مہدی ہیں جس کی پیشگوئی قرآن و حدیث میں موجود ہے۔پھر آپ نے اپنی تائید میں الہی نشانات کی تفصیل بیان فرمائی۔ہر موقع پر اللہ تعالیٰ کا آپ کے ساتھ جو سلوک رہا اُس کی روشنی میں واضح فرمایا، لیکن جن کے دلوں پر خدا تعالیٰ کی طرف سے مہر لگ جائے۔اُن کے دلوں کے قفل کوئی نہیں کھول سکتا جن کو خدا تعالیٰ ہدایت نہ دینا چاہے انہیں کوئی ہدایت نہیں دے سکتا۔لیکن سعید فطرت لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مانا، آپ کی بیعت میں شامل ہوئے۔اُن لوگوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی بیعت کرنے کی سعادت پائی، جن کے مقدر میں خدا تعالیٰ نے ہدایت لکھ دی تھی لیکن جو لوگ نام نہاد علماء کے خوف سے یا اُن کے پیچھے چل کر آپ کی بیعت میں نہیں آئے وہ باوجود اللہ تعالیٰ کے فضل کے نازل ہونے کے روحانی بارش کے برسنے کے اس فضل اور روحانی بارش سے محروم رہے اور اب تک رہ رہے ہیں۔لیکن اس کے مقابل پر جیسا کہ میں نے کہا جن کو اللہ تعالیٰ ہدایت دینا چاہتا ہے ، جن میں نیکی اور سعادت ہے وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو قبول کر رہے ہیں آپ کے وقت میں بھی قبول کیا اور آج تک کرتے چلے جارہے ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ زمانے کے فساد کی حالت میں آنے کی تمام نشانیاں پوری ہو چکی ہیں۔دنیا کی ہو اوہوس زیادہ ہے اور خدا تعالیٰ کا خوف کم ہو چکا ہے۔اس کی انتہا یہاں تک ہو چکی ہے کہ یہ نام نہاد مولوی اور اُن کے چیلے اپنی گراوٹوں کی انتہا کو پہنچ چکے ہیں۔اس حد تک گر چکے ہیں کہ احمدیوں پر ظلم ڈھانے کے لئے اللہ تعالیٰ کی کتاب قرآن کریم اور اُس کے رسول کی ہتک سے بھی باز نہیں آتے اور پھر کہتے ہیں کہ یہ تو قادیانیوں نے کیا ہے۔خود قرآنِ کریم کے پاکیزہ اور بابرکت اور اق کو ، صفحوں کو زمین پر یا نالی میں پھینک دیں گے،