خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 592
خطبات مسرور جلد نهم 592 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 02 دسمبر 2011ء سلام پہنچارہے ہیں وہ اسلام کے مختلف فرقوں میں سے آکر فرقہ بندی کو ختم کرتے ہوئے حقیقی اسلام کی تعلیم پر عمل پیرا ہونے کے لئے ہی جماعت احمدیہ میں شامل ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان پر فضل کرتے ہوئے اُن کی بصیرت کی آنکھ کو کھولا ہے تو انہوں نے فرقہ بندی کو خیر باد کہہ کر حقیقی اسلام کو قبول کیا ہے۔اُس حکم اور عدل کی بیعت میں آگئے ہیں جس کے بارے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرمائی تھی تا کہ جو غلط روایات، تعلیمات اور بدعات مختلف فرقوں میں راہ پاگئی ہیں اُن کو حقیقی قرآنی تعلیم کی روشنی کے مطابق دیکھا جائے۔اور حقیقی قرآنی تعلیم کے مطابق اُن کو اختیار کیا جائے اور اُن پر عمل کیا جائے۔یہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے کی اسلامی تعلیم کی حقیقی روشنی اور تربیت کا ہی نتیجہ ہے کہ جماعت احمد یہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق ہر کلمہ گو کو مسلمان سمجھتی ہے۔کسی مسلمان شخص کے لئے، کسی شخص کے مسلمان ہونے کے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ وہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله - کا اقرار کرتا ہو اور یہی حدیث سے ثابت ہے۔دیتا ہے۔(مسلم کتاب الایمان باب بیان الایمان و الاسلام والا حسان۔۔۔حدیث نمبر 93) لیکن اس کے مقابلے پر دوسرے فرقوں کو دیکھیں تو ہر ایک دوسرے کے بارے میں تکفیر کے فتوے پس ان اسلام کا درد رکھنے والوں کی یہ غلط فہمی کہ امت مسلمہ پہلے ہی فرقوں میں بٹی ہوئی ہے ، جماعت احمدیہ نے ایک اور فرقہ بنا کر فساد کی ایک اور بنیادرکھ دی ہے ، قرآن و حدیث کے علم میں کمی کا نتیجہ ہے۔کسی بھی دوسرے فرقے کے لٹریچر کا مطالعہ کر لیں تو تکفیر کے فتوؤں کے انبار ایک دوسرے کے خلاف نظر آئیں گے۔اگر جماعت احمدیہ کے لٹریچر کا مطالعہ کریں تو غیر مذاہب کے اسلام پر حملوں کا دفاع نظر آئے گا۔یا مسلمانوں سے یہ درخواست نظر آئے گی کہ اس تکفیر بازی کے زہروں سے بچیں اور خدمتِ اسلام کے لئے کمر بستہ ہو جائیں۔یا یہ نظر آئے گا کہ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے۔یا اس بات پر زور نظر آئے گا کہ دنیا میں محبت، پیار، صلح اور آشتی کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہئے اور نفرتوں کے انگاروں کو بجھانے کے لئے ہمیں کیا کوشش کرنی چاہئے۔یا یہ نظر آئے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کا مقام کیا تھا اور ہر ایک اُن میں سے ایک روشن ستارہ ہے جو قابل تقلید ہے ، ہر ایک کا اپنا اپنا مقام ہے۔پس جماعت احمدیہ کے لٹریچر میں تو یہ خوبصورت باتیں نظر آتی ہیں نہ کہ تکفیر کے فتوے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ تکفیر کے فتووں کے انبار ہیں، کسی بھی فرقے کے فتووں کی کتاب کو اُٹھا لیں ایک دوسرے کے خلاف فتوے نظر آئیں گے۔اس آخری بات کو جو میں نے کہی کہ صحابہ کا کیا مقام ہے ؟ اس بات کو میں لیتا ہوں۔اگر دیکھیں تو اسلام میں دو بڑے گروہ ہیں، اُن کی آگے فرقہ بندیاں ہیں۔شیعہ اور سنی۔اور دونوں نے، شیعہ اور سنی نے غلو اور زیادتی سے کام لیتے ہوئے ان صحابہ کے مقام کو گرانے سے بھی گریز نہیں کیا جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے