خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 591 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 591

خطبات مسرور جلد نهم 591 48 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 02 دسمبر 2011ء خطبہ جمعہ فرموده 02 دسمبر 2011ء بمطابق 02 فتح 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: مسلمانوں میں سے ایک طبقہ تو ایسا ہے جو نام نہاد علماء جن کا کام فساد پیدا کرنا ہے اُن کے پیچھے چل کر بغیر سوچے سمجھے احمدیت کی مخالفت کرنے والا ہے۔بعض ایسے ہیں اور بڑی کثرت سے ایسے ہیں جو مذہب سے لا تعلق ہیں۔صرف عید کی نماز پڑھنے والے ہیں یا زیادہ سے زیادہ کبھی کبھار جمعہ پڑھ لیا۔کچھ ایسے ہیں جو باوجو د مذہب میں کسی بھی قسم کی سختی کو نا پسند کرنے کے اور تکفیر کے فتووں سے جو ان علماء کی طرف سے لگائے جاتے ہیں بیزاری کا اظہار کرنے کے خوف کی وجہ سے چپ رہتے ہیں۔لیکن ایک ایسی تعداد بھی ہے جو گو اسلام کا اور مذہب کا زیادہ علم تو نہیں رکھتے ، دین کا زیادہ علم تو نہیں رکھتے لیکن خواہش رکھتے ہیں کہ غیر کی طرف سے اسلام اور مسلمانوں پر جو انگلی اٹھتی ہے، اعتراضات ہوتے ہیں اُن کا تدارک کیا جائے۔اُن کو کسی طرح سے روکا جائے۔اُن کو جواب دیا جائے۔اُن کے منہ بند کروائے جائیں۔اُن کی خواہش ہے کہ اسلام کے تمام فرقے ایک ہو کر دشمنانِ اسلام اور دجالیت کا مقابلہ کریں۔اس گروہ میں پاکستان ، ہندوستان کے رہنے والے مسلمان بھی ہیں، عرب ممالک کے رہنے والے مسلمان بھی ہیں اور دوسرے مسلمان ممالک کے رہنے والے مسلمان بھی ہیں۔ان لوگوں کی طرف سے جو اسلام کو صرف اسلام کے نام سے جانا چاہتے ہیں نہ کہ کسی فرقے کے نام سے ، جماعت احمد یہ پر بھی یہ اعتراض ہو تا ہے اور مختلف موقعوں پر سوال اُٹھاتے ہیں کہ کیا پہلے اسلام میں فرقے کم ہیں جو آپ نے بھی ایک فرقہ بنالیا۔ہمیں کہتے ہیں کہ اگر آپ لوگ اسلام کے ہمدرد ہیں تو مسلمانوں کو فرقہ بندیوں سے آزاد کرانے کی کوشش کریں۔سب سے پہلے تو میں ایسے سوال کرنے والوں کا اس لحاظ سے شکریہ ادا کرتا ہوں کہ کم از کم وہ ہمیں مسلمانوں کا ایک فرقہ تو سمجھتے ہیں، مسلمان تو سمجھتے ہیں۔بلا سوچے سمجھے تکفیر کا فتویٰ نہیں لگا دیتے۔ایسے لوگوں سے میں یہ عرض کروں گا کہ اللہ تعالیٰ نے مسلم اللہ پر رحم کھاتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق اور اپنے وعدے کے عین مطابق حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام کو مسیح موعود اور مہدی معہود بنا کر اس لئے بھیجا ہے کہ فرقوں کا خاتمہ ہو۔جو مسلمان جماعت احمدیہ میں شامل ہو کر مسیح موعود علیہ السلام کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا