خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 590
590 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم احمدیوں کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ نعوذ باللہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والے ہیں۔ہم شہری حقوق سے محروم ہونے کو تو کوئی حیثیت نہیں دیتے اور نہ اس کی کوئی حیثیت سمجھتے ہیں، ہمیں تو تمام حقوق سے بھی محروم کر دیا جائے تو ہم یہ برداشت کر لیں گے اور کر رہے ہیں لیکن ان نام نہاد علماء اور حکمرانوں کی خواہش کے مطابق ہم کبھی اپنے آپ کو حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ نہیں کر سکتے۔احمدی کیوں پاکستان میں ووٹ کا حق استعمال نہیں کر سکتا۔اس لئے کہ یہ کہتے ہیں کہ تمہارا یہ حق رائے دہی اور آزادی اس اعلان سے مشروط ہے کہ تم کہو کہ ہم مسلمان نہیں ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب نہیں ہیں۔خدا کی قسم !ہم میں سے ہر احمدی بوٹی بوٹی ہونا تو گوارا کر سکتا ہے لیکن ایسی آزادی اور حق رائے دہی پر تھوکتا بھی نہیں جو ہمیں ہمارے آقاو مولیٰ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدہ کر دے۔پس ایسی آزادی تم دنیا داروں کو مبارک ہو۔ہم نے تو ایسی آزادی پر اُس غلامی کو ترجیح دی ہے جو ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی جوتیوں کی خاک بناتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا حقیقی عبد بنادے۔جو حقوق اللہ کی ادائیگی کا ادراک رکھتے ہوئے اُنہیں ادا کرنے والا بھی ہو اور حقوق العباد کی ادائیگی کا ادراک رکھتے ہوئے اُنہیں بجالانے والا بھی ہو۔اور انشاء اللہ تعالیٰ ایک دن آئے گا کہ ہماری یہی عاجزی، ہماری یہی غلامی دنیا کو حقیقی آزادی کا نظارہ دکھائے گی۔اور اپنے آپ کو آزاد کہنے والے جو اغلال میں جکڑے ہوئے ہیں، بوجھوں اور طوقوں میں پڑے ہوئے ہیں یہ یا اُن کی نسلیں ایک دن مسیح محمدی کی غلامی پر فخر محسوس کریں گی۔جن سے اُن کو اُس حقیقی آزادی کا ادراک حاصل ہو گا جس کے قائم کرنے کے لئے حضرت محمد مصطفی خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تھے۔اللہ کرے دنیا اس آزادی کے دن جلد دیکھ لے اور اُن خوفناک نتائج سے بچ جائے جو اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوؤں کے انکار کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر احمدی کو بھی صبر اور استقامت سے ان سختیوں کے دن دعاؤں میں گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 16 دسمبر تا 22دسمبر 2011 ، جلد 18 شماره 50 صفحہ 5 تا 8)