خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 589
589 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم نئی کہانیاں شروع ہو جاتی ہیں۔پس آجکل کی جو آزادی ہے وہ آزادی کے نام پر ایک غلامی سے نکل کر دوسری غلامی میں جانا ہے۔افریقہ کے اکثر ممالک میں دیکھ لیں یا دوسرے مسلمان ممالک میں دیکھ لیں یہی صورت نظر آتی ہے۔اگر غیروں کی غلامی سے نجات ملی ہے تو اپنوں کی غلامی نے گھیر لیا ہے۔اللہ کرے کہ مسلمان ملکوں کے سربراہ بھی اور افریقن ممالک کے سربراہ بھی اور سیاستدان بھی اور فوج بھی جو اکثر انقلاب کے نام پر حکومتوں پر قبضہ کرتی رہتی ہے اور مذہبی لیڈر بھی یا علماء کہلانے والے بھی اس حقیقت کو سمجھ لیں کہ اپنے ہم قوموں کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑنے سے، انصاف پر نہ چلنے سے، دوسروں کے حقوق کی ادائیگی نہ کرنے سے وہ اللہ تعالیٰ کی پکڑ میں آئیں گے۔ہر راعی سے پوچھا جائے گا کہ تم نے اپنی رعایا کا حق ادا کیا؟ جو تمہاری ذمہ داری تھی تم نے ادا کی یا ملکی دولت کو اپنی تجوریوں میں بھرتے رہے؟۔اسلام اور اللہ رسول کا نام تو لیتے رہے۔کیا اس نام کا پاس تم نے کیا؟ اور نفی میں جواب پر یقینا اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئیں گے کیونکہ خدا تعالیٰ کے سامنے تو جھوٹ نہیں بولا جاسکتا۔خدا تعالیٰ سے کوئی چیز چھپائی نہیں جاسکتی۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں فرماتا ہے۔حقیقی مومن وہ ہیں جو لِامنتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رُعُونَ (المومنون : 9) اپنی امانتوں اور عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔پس سر بر اہان اپنی امانتوں کے بارے میں پوچھے جائیں گے جبکہ وہ خاص طور پر اپنے عہد لیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کو گواہ بھی بناتے ہیں۔یہ عہد کرتے ہیں کہ وہ ملک کے مفاد اور عوام کی بہتری، اُن کے حقوق کی ادائیگی، انصاف کے قیام اور آزادی کی خاطر ہر کوشش بروئے کار لائیں گے لیکن یہ بہت بڑی بد قسمتی ہے کہ اکثر جگہ ہم قومی دولت کو لٹتا ہواہی دیکھتے ہیں۔علماء ہیں تو انہوں نے دین کو کمائی کا ذریعہ بنایا ہوا ہے اور عوام کو جیسا کہ میں نے کہا غلط رسم و رواج اور تعلیم اور عقائد کے طوق پہنا کر صرف اور صرف اپنے زیر رکھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔عوام الناس ہیں تو وہ بھی اپنے حق ادا نہیں کر رہے۔غرض کہ امانتوں کی ادائیگی کا حق ادانہ کر کے بھی ہر کوئی اللہ تعالیٰ کی پکڑ کو آواز دے رہا ہے۔اور آجکل کے ملکوں کے فساد اسی بات کا منطقی نتیجہ ہیں۔اور دہشت گردی، معاشی بد حالی، بد امنی یہ نہ صرف آجکل حال کی حالت ہے بلکہ ایک انتہائی بے چین کر دینے والے مستقبل کی بھی نشاندہی کر رہی ہے۔پاکستان میں ہی مثلاً آزادی کے بعد باسٹھ تریسٹھ سال میں ان تمام باتوں کی انتہا ہوئی ہوئی ہے اور ہر روز اس میں اضافہ ہی ہو رہا ہے۔کوئی نہیں کہہ سکتا کہ کل کیا ہونے والا ہے۔اس لئے کس طرح ہم توقع کر سکتے ہیں کہ بہتر مستقبل ہو گا۔انگریزوں کی غلامی سے تو ہمیں نجات مل گئی لیکن اپنوں کی غلامی کے طوق اور بھی زیادہ تنگ ہو گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ملک پر بھی رحم فرمائے اور عوام پر بھی رحم فرمائے۔جس پاکستان کو حاصل کرتے وقت قائد اعظم نے اعلان کیا تھا کہ یہاں ہر مذہب کے ماننے والوں کو مذہبی آزادی ہے اور پاکستانی شہری کی حیثیت سے تمام شہری برابر ہیں ، وہاں احمدیوں کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا جارہا؟ خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم جن کی غلامی میں رہنا ہر احمدی ہزاروں آزادیوں پر ترجیح دیتا ہے اور اپنی گردنیں کٹوانے کے لئے تیار ہے ، ان کے حوالے سے غلط باتیں احمدیوں کی طرف منسوب کر کے ، احمدیوں پر افتراء کرتے ہوئے، جھوٹے الزام لگاتے ہوئے