خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 588 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 588

588 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم سے آزاد کروانے کیلئے بھیجا ہے۔اور صرف اور صرف ایک غلامی میں آنے کی تعلیم دی ہے اور وہ خدا تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی ہے۔جس غلامی سے پھر آزادیوں کے نئے راستے نظر آتے ہیں، انصاف نظر آتا ہے، برابری نظر آتی ہے اور ایک ایسا حسین معاشرہ نظر آتا ہے جہاں حقوق لینے کے لئے جلوس نہیں نکالے جاتے۔آزادی حاصل کرنے کے لئے غلط طریق استعمال نہیں کئے جاتے بلکہ حقوق دینے کے لئے بادشاہ بھی اور فقیر بھی کوشش کر رہا ہو تا ہے۔پس اب مسلمانوں کے وقار اور ہر قسم کے فسادوں سے بچنے کی ایک ہی راہ ہے ، ایک ہی راستہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول کے احکامات اور تعلیمات پر عمل کیا جائے۔اور یہ ممکن نہیں ہے جب تک اُس شخص کے انکار سے باز نہیں آتے جسے اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں ہر دو قسم کے حقوق قائم کرنے کے لئے بھیجا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے مختلف مواقع پر بڑے خو بصورت رنگ میں ہمارے سامنے اس تعلیم کو رکھا ہے جو حق و انصاف کو قائم رکھتی ہے، جو مستقل آزادی کی ضمانت ہے۔آپ فرماتے ہیں:۔یاد رکھو کہ ایک مسلمان کو حقوق اللہ اور حقوق العباد کو پورا کرنے کے واسطے ہمہ تن تیار رہنا چاہئے۔اور جیسے زبان سے خدا تعالیٰ کو اُس کی ذات اور صفات میں وحدہ لا شریک سمجھتا ہے ایسے ہی عملی طور پر اُس کو دکھانا چاہئے اور اُس کی مخلوق کے ساتھ ہمدردی اور ملائمت سے پیش آنا چاہئے۔فرمایا: ”جب تک تمہارا آپس میں معاملہ صاف نہیں ہو گا اُس وقت تک خدا تعالیٰ سے بھی معاملہ صاف نہیں ہو سکتا۔گو ان دونوں قسم کے حقوق میں بڑا حق خدا تعالیٰ کا ہے مگر اُس کی مخلوق کے ساتھ معاملہ کرنا یہ بطور آئینہ کے ہے۔جو شخص اپنے بھائیوں سے صاف صاف معاملہ نہیں کرتا وہ خدا تعالیٰ کے حقوق بھی ادا نہیں کر سکتا“۔لیکن اصل بات تو یہ ہے کہ بھائی سمجھا بھی تو جائے۔جو اپنے آپ کو بالا سمجھے ، دوسرے کو حقیر سمجھے اور اُس کے لئے کوشش بھی کرتارہے ، اُس سے کبھی انصاف اور بھائی چارے کی توقع نہیں کی جاسکتی۔بہر حال پھر آپ آگے ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ”ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو جماعت بنائی تھی اُن میں سے ہر ایک ز کی نفس تھا“ (پاک نفس تھا) اور ہر ایک نے اپنی جان کو دین پر قربان کر دیا ہوا تھا۔اُن میں سے ایک بھی ایسانہ تھا جو منافقانہ زندگی رکھتا ہو۔سب کے سب حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے تھے“۔( ملفوظات جلد نمبر 5 صفحہ 407 408 - مطبوعہ ربوہ) پس جب دین دنیا پر مقدم ہو تبھی وہ حالت پیدا ہوتی ہے جو خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والا بناتی ہے اور مخلوق کا حق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ پیدا ہوتی ہے۔آج بظاہر ہمیں ایک بھی لیڈر مسلمانوں میں، مسلمان ملکوں میں نظر نہیں آتا جو یہ معیار قائم کرنے والا ہو۔اور جب حقیقی اور انصاف پسند اور حقوق ادا کرنے والے رہنما نہ ہوں تو پھر ہر ایک اپنے حق اور آزادی کے لئے اپنے طریق پر عمل کرتا ہے۔اور جیسا کہ میں نے کہا، اس سے مفاد پرست پھر اپنا مفاد حاصل کرتے ہیں اور پھر انصاف اور آزادی کے نام پر ظلموں کی نئی داستانیں رقم ہوتی ہیں، ایک