خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 587
خطبات مسرور جلد نهم 587 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 25 نومبر 2011ء کے حقوق ادا کرنے کے لئے تھی کہ ہم اب کیونکہ تمہارے حقوق ادا نہیں کر سکتے اس لئے جور قم لی گئی تھی تمہیں واپس کرتے ہیں۔اُس وقت وہ جو عیسائی رعایا تھی وہ روتے تھے اور روتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ ہم دعا کرتے ہیں کہ تم لوگ دوبارہ واپس آؤ۔(ماخوذ از سیر الصحابه جلد نمبر2 حضرت ابو عبیدہ بن الجراح صفحہ نمبر 171-172 ادارہ اسلامیات لاہور) کیونکہ تم جیسے حاکم ہم نے نہیں دیکھے۔مسلمان حکومت کے تحت ہمیں جو انصاف اور حقوق ملے ہیں وہ ہمیں ہماری حکومتوں میں نہیں ملے۔اور کہاں اب یہ زمانہ ہے کہ مسلمان حکمران مسلمانوں کی دولت لوٹ رہے ہیں اور ملک میں انصاف ختم ہے۔حقوق غصب کئے جارہے ہیں۔کسی کی جان اور مال محفوظ نہیں ہے۔اور پھر بڑی ڈھٹائی سے یہ دعویٰ ہے کہ ہم عوام کے لئے جو کچھ کر رہے ہیں کوئی اور نہیں کر سکتا۔یہ جو انقلابی صورت مختلف ممالک میں پید اہوئی ہے اور جس سے جیسا کہ میں نے کہا مفاد پر ست فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔بعض مذہب کے نام پر اپنے مفاد حاصل کرنے کے لئے کوشش کر رہے ہیں۔یہ کبھی نہ ہوتا اگر عوام کے حقوق انہیں دیئے جاتے۔اگر حکومتیں انصاف پر قائم ہو تیں، عوام کی آزادی کی حفاظت کی جاتی اور حکومتیں بھی لالچ کے بجائے انصاف قائم رکھنے کی کوشش کرتیں تو کبھی یہ فساد نہ ہو تا۔مذہبی لوگوں کا میں نے ذکر کیا ہے تو انہوں نے عوام کو دینی تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے، دین کا علم نہ ہونے کی وجہ سے دین میں غلط رسوم پیدا کر کے ، غلط تشریحات کر کے اُن کی گردنوں میں ان رسوم و رواج کے اور غلط تعلیمات کے طوق ڈال دیئے ہیں، اور اس طرح ان کو غلام بنایا ہوا ہے۔اللہ تعالیٰ نے تو اس عظیم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں جو انسانیت کی عظمت قائم کرنے آیا تھا یہ فرمایا ہے۔وَيَضَعُ عَنْهُمْ إِصْرَهُمْ وَالْأَغْلَلَ الَّتِي كَانَتْ عَلَيْهِمْ (الاعراف: 158) کہ یہ ہمارا نبی اُن کے بوجھ دور کرتا ہے اور جو طوق اُن کی گردنوں میں پڑے ہوئے ہیں انہیں کاٹتا ہے۔لیکن یہاں آجکل کیا ہو رہا ہے ؟ ہمیں تو بالکل اس کے الٹ نظر آتا ہے۔مسلمان ممالک کو جو اس نبی کے ماننے والے ہیں یا ماننے کا دعویٰ کرنے والے ہیں، ماننے کے بعد حق و انصاف اور آزادی دینے کا نمونہ ہونا چاہئے تھا۔دوسرے ممالک کو ، غیر مسلم ممالک کو ان کا حق و انصاف اور عوام کی آزادی اور ترقی کو دیکھ کر نمونہ پکڑنا چاہئے تھا۔لیکن یہاں اس کے بالکل الٹ ہے اور علماء جو حقیقی اسلامی تعلیم کے پھیلانے والے ہو کر ہر قسم کی بدعات سے مسلمانوں کو پاک کرنے والے ہونے چاہئے تھے انہوں نے بھی اُن کے گلوں میں طوق ڈال دیئے ہیں۔دونوں نے مسلمان عوام الناس کو غلامی کے بوجھوں تلے دبایا ہوا ہے اور طوقوں میں جکڑا ہوا ہے۔پس صرف حکمرانوں پر ہی الزام نہیں ہے بلکہ آجکل کے علماء بھی اُن لوگوں میں شامل ہیں جنہوں نے جھوٹے رسم و رواج اور جھوٹے عقائد کو دین کا نام دے کر عوام کے جذبات سے کھیلتے ہوئے اُنہیں ایک طرح سے غلام بنا لیا ہے اور یہ سلسلہ جاری رہے گا، کبھی ختم نہیں ہو گا تاوقتیکہ یہ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے اُس فرستادے کو نہیں مان لیتے جو اللہ تعالیٰ نے اس زمانے میں انسانی قدریں قائم کرنے کیلئے اور ہمیں ہر قسم کے بوجھوں اور طوقوں