خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 564
خطبات مسرور جلد نهم 564 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2011ء چنانچہ اچانک اللہ تعالیٰ نے سامان پیدا فرمائے اور وہ سب کچھ بھی اچانک ہو گیا اور گیارہ بجے کے بعد انتظامات مکمل ہو (ماخوذ از الفضل 31 جولائی 1949ء جلد نمبر 3 شمارہ 174 صفحہ 5-6) گئے۔اور یہ تاریخی ہجرت جو قادیان سے پاکستان کی طرف ہوئی وہ واقع ہوئی۔لیکن اور رنگ میں بھی کئی جگہ یہ الہام پورا ہو چکا ہے۔یہ ڈکٹیٹر ہی جو احمدیت کو ختم کرنا چاہتا تھا، احمدیت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنا چاہتا تھا، اُس کی حکومت خود جڑ سے اُکھڑ گئی اور عین گیارہ سال کے بعد اُکھڑ گئی۔بعض اور بھی مواقع ہیں جیسا کہ میں نے کہا جس پر یہ الہام چسپاں ہو سکتا ہے، لیکن پیشگوئیاں، الہامات بار بار پورے ہوتے ہیں۔اس لئے مزید اور واضح اور روشن نشانوں کی ہمیں امید رکھنی چاہئے۔لیکن یہ بھی یادر کھیں کہ اس الہام کے ساتھ فارسی کا یہ الہام بھی لکھا ہے کہ۔بر مقام فلک شده یارب گرامیدے دیہم مدار عجب “ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ "( خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تیری دُہائی اب آسمان پر پہنچ گئی ہے اب میں اگر تجھے کوئی امید اور بشارت دوں تو تعجب مت کر۔میری سنت اور موہبت کے خلاف نہیں) بعد 11 انشاء اللہ - ( فرمایا اس کی تفہیم نہیں ہوئی۔(تذکرہ صفحہ نمبر 327 ایڈیشن چہارم 2004ء مطبوعہ ربوہ) پس یہاں پھر دعا کا مضمون بیان ہوا ہے کہ دہائی آسمان پر پہنچنا۔ہمیں بڑی شدت سے دعاؤں کی طرف توجہ کرنی چاہئے جیسا کہ پہلے میں نے کہا۔میں نے اس لئے دعاؤں کی طرف توجہ دلائی تھی کہ اس شدت سے دعائیں کریں کہ دہائی کی طرح آسمان پر پہنچنے والی دعائیں ہوں اور عرش کے پائے ہلیں اور پھر ہم انشاء اللہ تعالیٰ فتوحات کے جلد نظارے دیکھیں اور دشمن کو نگو سار دیکھیں۔اللہ تعالیٰ مجھے بھی اور آپ کو بھی پہلے سے بڑھ کر دعاؤں کی توفیق عطا فرمائے۔نمازوں کے بعد آج بھی میں دو نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔ایک تو ہمارے قادیان کے درویش مکرم چوہدری محمد صادق صاحب تنگلی ابن مکرم وریام دین صاحب تنگلی کا ہے۔یہ 29 اکتوبر کو گر گئے تھے اور کو لہے کی ہڈی ٹوٹ گئی۔دل کی تکلیف بھی تھی۔علاج وغیرہ ہو تا رہا لیکن بہر حال پانچ نومبر کو ان کی وفات ہو گئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔حضرت مصلح موعودؓ نے جب درویشی کی تحریک کی تو آپ ابھی چھوٹے تھے لیکن آپ نے اس تحریک پر بڑے اخلاص کے ساتھ لبیک کہا اور آخر دم تک پوری وفا کے ساتھ اس عہد کو نبھایا۔آپ مرکزی دفاتر میں خدمت بجا لاتے رہے۔علاوہ ازیں قادیان میں جماعت کی بہت سی ایسی زمینیں جو غیر ہموار تھیں ، انہیں ہموار کرنے کی بھی توفیق پائی۔آپ ایک ہمدرد ، ذہین اور مخلص کارکن تھے۔آپ کو خدمت خلق کا بہت شوق تھا۔دودھ ، سبزیاں، پھل اور اناج وغیرہ چونکہ گھر کا ہو تا تھا اس لئے آپ مختلف گھروں میں بلا معاوضہ کچھ نہ کچھ روزانہ بھجوایا کرتے تھے۔جلسہ سالانہ قادیان پر آنے والوں مہمانوں کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔اُن کے آرام اور کھانے پینے کے لئے اپنی طاقت سے بڑھ کر خرچ کیا کرتے تھے۔انتہائی ملنسار، غریب پرور ، صابر و شاکر ، صوم و صلوۃ کے پابند