خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 563 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 563

563 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم چاہتا ہے اور انشاء اللہ دکھائے گا، وہاں دنیائے احمدیت کو بھی اس طرف متوجہ ہونا چاہئے کہ ہم نے سب سے زیادہ عزیز اور پیارا اپنی عبادتوں کو رکھنا ہے۔اللہ تعالیٰ سے تعلق اور محبت کو پہلے سے بہت زیادہ بڑھانا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ایک بات اور کہنا چاہوں گا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک الہام ہے۔“بعد 11۔(اربعین نمبر 4 روحانی خزائن جلد نمبر 17 صفحہ نمبر 457 حاشیہ) احمدی اپنے طور پر اندازے لگاتے رہتے ہیں، مجھے بھی لکھتے رہتے ہیں۔اس بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود فرمایا ہے: ”میں نہیں جانتا کہ گیاراں دن یا گیاراں ہفتے یا گیاراں مہینے یا گیاراں سال“۔اربعین نمبر 4 روحانی خزائن جلد نمبر 17 صفحہ نمبر 457 حاشیہ) فرمایا کہ اس عرصے میں میری بریت کا نشان ظاہر ہو گا۔آج کیونکہ گیارہ نومبر ہے اور نومبر بھی گیار ہواں مہینہ ہے اور 2011 ء ہے۔اس لئے احمد کی اپنے اپنے خیال کے مطابق سوچتے ہیں۔بہر حال اگر اس گیارہ میں کچھ مقدر ہے جو آج کی تاریخ اور آج کے مہینے اور آج کے سال میں ہے تو انشاء اللہ تعالیٰ وہ ضرور ظاہر ہو گا۔لیکن یہ یاد رکھنا چاہئے کہ بہت سے الہامات ہیں جن میں اللہ تعالیٰ کی مدد، تائید و نصرت، رحمانیت کے جلوے دکھانے کے لئے ”بغتةً“ کے لفظ کا وعدہ ہے یعنی یہ سب کچھ اچانک ہو گا۔بعید نہیں کہ ان تاریخوں سے ، آج کی تاریخوں سے، آج کے دن سے ، اس مہینے سے ، اس سال سے ، اس تقدیر کا عمل شروع ہو جائے۔لیکن بعض دفعہ خود ہی بعض کمزور طبائع اندازے لگا کر نتائج مرتب کر کے اگر اُس طرح واقع نہ ہو جس طرح وہ اندازے لگارہے ہوتے ہیں تو مایوسی کی طرف جانا شروع ہو جاتے ہیں یا اللہ تعالیٰ کی طرف جو توجہ ہے اُس میں کمی ہو جاتی ہے۔مومن کا یہ شیوہ نہیں ہے کہ کبھی مایوس ہو۔غلبہ یقینی ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر ہے۔انشاء اللہ تعالیٰ وہ ہو کر رہے گا بلکہ ہو رہا ہے۔دشمن کی جو مخالفتیں ہیں اور مخالفین احمدیت کی جو حالتیں ہیں جس طرح وہ حواس باختہ ہوئے ہوئے ہیں اور ہو رہے ہیں یہ اللہ تعالیٰ کے غلبے کی ہی تو دلیل ہے۔اس ضمن میں ایک بات یہ بھی بتادوں کہ حضرت مصلح موعودؓ نے بھی قادیان سے ہجرت کے وقت کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ کس طرح ہجرت ہوئی۔وہ فیصلہ کرنا بڑا مشکل تھا۔ہجرت پر غور ہو رہا تھا۔آپ بیان فرماتے ہیں کہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات کا مطالعہ کر رہا تھا تو اس وقت یہ الہام بھی میرے سامنے آیا۔” بعد گیارہ “ اور میں نے سمجھا کہ یہ تو یقینی بات ہے کہ ہجرت ہونی ہے۔پھر کچھ ٹرانسپورٹ وغیرہ کے مسائل سامنے آئے تو اُس پر بھی تاریخوں کی وجہ سے اسی گیارہ تاریخ پر غور ہو رہا تھا۔پھر آخر میں بڑی تگ و دو کے بعد جو انتظام ہوا اس میں دوبارہ روک پڑنی شروع ہو گئی اور جس دن جانا تھا اس دن بھی روک پڑنے کے عموماً آثار ظاہر ہو رہے تھے۔دس بج گئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحب نے کہا کہ وہ جو انتظام تھا اب تو لگتا ہے کہ مشکل ہے۔لیکن حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ میرے ذہن میں یہ بعد گیارہ کا الہام تھا اور میں سمجھتا تھا کہ شاید گیارہ بجے کے بعد ہو۔