خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 565 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 565

565 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 11 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم مخلص انسان تھے۔اولاد کی بہترین رنگ میں تربیت فرمائی۔موصی تھے۔ان کے پسماندگان میں چار بیٹے ہیں جو ان کی یاد گار ہیں۔آپ کے ایک بیٹے مکرم ڈاکٹر محمد عارف صاحب جو افسر جلسہ سالانہ اور ناظر بیت المال خرچ تھے گزشتہ سال وفات پاگئے تھے۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے۔دوسرا جنازہ مکرم احمد یوسف الخابوری صاحب شہید کا ہے۔یہ شام کے عرب دوست ہیں۔انہیں گزشتہ ماہ شہید کر دیا گیا۔آجکل جو وہاں فساد ہو رہے ہیں اُس میں یہ شہید ہوئے۔اِنَّا لِلهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ۔ان کا واقعہ اس طرح پیش آیا کہ 31 اکتوبر کو عصر کے وقت کام سے گھر آرہے تھے۔جس علاقے سے انہوں نے گزرنا تھا وہ نہایت فساد زدہ علاقہ ہے جہاں وقتا فوقتا گولی چلتی رہتی ہے۔شہید مرحوم ذرا اونچا سنتے تھے۔بعض لوگوں نے ان کو اس طرف سے گزرنے سے منع کیا لیکن معلوم ہوتا ہے کہ اونچا سننے کی وجہ سے ان کی بات نہیں سمجھ پائے اور وہاں سے گزر گئے۔جب جارہے تھے تو ان کے سر میں گولی لگی اور موقع پر ہی شہید ہو گئے۔1976ء میں پیدا ہوئے تھے اور پرائمری تک معمولی تعلیم تھی۔محنت مزدوری کرتے تھے۔ابھی شادی نہیں ہوئی تھی۔دس سال سے زیادہ عرصہ قبل انہیں احمدیت کی تبلیغ پہنچ چکی تھی تاہم بیعت کی توفیق انہیں گزشتہ سال نومبر میں، تقریباً ایک سال پہلے ملی۔شہید مرحوم کے ایک بھانجے مکرم یونس صاحب بیان کرتے ہیں کہ مرحوم مجھ سے جماعت کے بارے میں بڑی مؤثر گفتگو کیا کرتے تھے۔چنانچہ ان کی باتیں سن کر میں نے ان سے پہلے بیعت کر لی لیکن انہیں ایک ماہ بعد بیعت کی توفیق ملی۔اسی طرح مرحوم کی بہن اور بھانجیوں نے بھی ان کی تبلیغ سے بیعت کر لی۔شہید مرحوم بیعت سے قبل علوی فرقے سے تعلق رکھتے تھے اور باوجودیکہ ان پر بڑا پریشر تھا انہوں نے بڑے اخلاص اور صدق سے بیعت کی۔جماعت کے ہر پروگرام میں شامل ہوتے تھے۔مرحوم بڑے اعلیٰ اخلاق کے مالک تھے۔طبیعت میں سادگی اور دوسروں کی مدد کا جذبہ نمایاں تھا۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے ، مغفرت کا سلوک فرمائے۔ان دونوں کے جنازے جمعہ کے بعد انشاء اللہ ہوں گے۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 2 دسمبر تا 8 دسمبر 2011 ءجلد 18 شمارہ 48 صفحہ 5 تا8)