خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 545 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 545

خطبات مسرور جلد نهم 545 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2011ء نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے لبیک کہا اور پہلے سے بڑھ کر جماعت اور اسلام کی ترقی کے لئے دعاؤں میں مشغول ہو گئے ، باقی قربانیوں میں لگ گئے۔گزشتہ دنوں جب میں نے نفلی روزوں اور دعاؤں کی طرف توجہ دلائی تو جو خطوط مجھے آرہے ہیں اُس سے لگتا ہے کہ بے انتہا شوق سے جماعت نے اس طرف توجہ دی اور لبیک کہا ہے اور ہر ایک دعاؤں میں مصروف ہے۔جن کو نہیں بھی کہا تھا وہ بھی دعاؤں میں مشغول ہیں۔صرف پاکستانی نہیں بلکہ افریقہ کے لوگ بھی، یورپ کے لوگ بھی، امریکہ کے لوگ بھی، جو پاکستانی قومیت نہیں رکھتے انہوں نے بھی دعاؤں کی طرف توجہ دی اور اپنے پاکستانی بھائیوں کے لئے اور ہر اُس احمدی کے لئے جو کسی بھی طرح کسی بھی قسم کی تکلیف میں مبتلا ہے یا تکالیف میں مبتلا کیا جارہا ہے، اُس کے لئے دعاؤں میں مشغول ہو گئے۔اگر مالی قربانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی تو مالی قربانیوں میں بڑھ گئے اور ایسے ایسے نمونے دکھائے کہ حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح دین کی خاطر قربانیوں میں یہ لوگ بڑھ رہے ہیں۔فی زمانہ تبلیغ اسلام کے لئے لٹریچر، کتب کی اشاعت بڑی ضروری ہے۔مبلغین کا انتظام ہے ، مساجد اور مشن ہاؤسز کی تعمیر ہے اور دوسرے ذرائع جو آجکل کے تیز زمانے میں میڈیا میں ایجاد ہوئے ہیں ان سب کے لئے مالی قربانیوں کی ضرورت ہوتی ہے۔آجکل صرف ایم ٹی اے ہی ایک وسیع تبلیغ کا ذریعہ بنا ہوا ہے جس میں اس وقت چار مختلف سیٹلائٹس سے فائدہ اُٹھایا جارہا ہے جس سے اب دنیا کا کوئی کونہ ایسا نہیں کہ جہاں احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام نہ پہنچ رہا ہو اور پھر سات آٹھ بڑی زبانوں میں یہ پیغام پہنچ رہا ہے۔پس یہ تبلیغ کا، اسلام کا پیغام پہنچانے کا، اُس مقصد کے حصول کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لائے تھے۔اور اس کے لئے مالی قربانی کی ضرورت ہوتی ہے جو جماعت ہمیشہ پہلے سے بڑھ کر کرتی ہے۔آج میں حسب روایت تحریک جدید کے نئے سال کا اعلان کروں گا۔جب یہ تحریک حضرت مصلح موعودؓ نے شروع فرمائی تھی اُس وقت مخالفین احمدیت نے اس پیغام کو دنیا سے مٹانے کا اعلان کیا تھا جس کو لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے تھے لیکن حضرت مصلح موعودؓ نے جب اُس کے جواب میں دنیا کے کونے کونے میں اس پیغام کو پہنچانے کے لئے مالی تحریک کی تو ایک والہانہ لبیک کا نظارہ دنیا نے دیکھا اور آج ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے دو سو ممالک میں موجود ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا کہ صرف ایم ٹی اے کے ذریعے ہی ایک انقلاب دنیا میں آرہا ہے۔پس خلافت کے سائے تلے جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا تھا آپ کے مقصد کو پورا کرنے کے لئے جماعت قربانیاں دے رہی ہے۔کاش کہ وہ مسلمان جو حب پیغمبری کا دعویٰ کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کی اس تقدیر کو سمجھیں اور توحید کے قیام، قرآن کریم کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم کرنے کے لئے اس جری اللہ کے ساتھ بجھ کر کام کرنے کے لئے اپنے آپ کو پیش کریں اور پھر دیکھیں کہ اُن کی کھوئی ہوئی ساکھ کس طرح دوبارہ بحال ہوتی ہے۔پھر دیکھیں کہ بڑی بڑی طاقتیں کس طرح اُن کی عزت و احترام کرتی ہیں۔پھر دیکھیں کہ کسی بد بخت کارٹونسٹ اور رسالے کے ایڈیٹر یا کوئی