خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 546 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 546

خطبات مسرور جلد نهم 546 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2011ء بھی ہو اُس کو کبھی جرآت نہیں ہو گی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کسی بھی قسم کی بیہودگی کا اظہار کرے۔چند دن ہوئے فرانس میں ایک رسالے نے پھر ایک خبیثانہ حرکت کی ہے جس سے ہمارے دل زخمی ہیں۔فرانس کی جماعت کو تو میں نے کہا ہے کہ اس کے خلاف قانون کے اندر رہتے ہوئے احتجاج بھی کریں۔ان لوگوں کو سمجھائیں بھی اور پبلک کو بھی ہوشیار کریں کہ اس قسم کی حرکتوں سے خدا تعالی کی گرفت اور پکڑ بھی آتی ہے۔اس لئے اللہ تعالیٰ کی گرفت اور پکڑ سے بچو۔آجکل دنیا تو ویسے ہی تباہی کی طرف جارہی ہے ، کہیں آفات ہیں اور کہیں معاشی تباہی بڑھ رہی ہے۔اس کی وجوہات یہی ہیں کہ خدا کو بھول گئے ہیں، اُس کے پیاروں کے متعلق گھٹیا اور اوچھی باتیں کی جاتی ہیں، تضحیک کی جاتی ہے۔خدا کی غیرت کو یہ لوگ للکار رہے ہیں۔پس دنیا کو خدا کا خوف دلانے کی ضرورت ہے۔آج احمدی تو یہ کام کر ہی رہے ہیں لیکن اگر تمام مسلمان بھی اب اس حقیقت کو سمجھ جائیں تو جہاں اپنی دنیا و عاقبت سنواریں گے وہاں اللہ تعالیٰ کے انعامات کے بھی مورد بنیں گے ، وارث بنیں گے۔کاش ان کو عقل آجائے۔بہر حال جیسا کہ میں نے کہا جب مسلمانوں کا ایک گروہ احمدیت کو ختم کرنے کے بلند بانگ دعوے کر رہا تھا تو حضرت مصلح موعودؓ نے احمدیت یعنی حقیقی اسلام کو دنیا میں پھیلانے کے لئے ایک تحریک کا اعلان کیا۔اس پر احباب جماعت نے ، بچوں، عورتوں، مردوں نے لبیک کہا اور لبیک کہتے ہوئے قربانیوں کی مثالیں قائم کیں اور ان قربانیوں کے نتیجے میں آج ہم دنیا میں تحریک جدید کے پھل لگے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔بلکہ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدیت کے پھل دار درخت بلکہ پھلوں سے لدے ہوئے درخت لگے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔جہاں مختلف لازمی چندوں اور دوسری تحریکات میں جماعت کے افراد قربانی کر رہے ہیں وہاں تحریک جدید میں بھی غیر معمولی قربانیاں ہیں۔آجکل جبکہ دنیا مالی بحران کا شکار ہے تو یہ قربانیاں جو احمدی کر رہے ہیں اللہ تعالیٰ کی حمد سے لبریز کر دیتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے یہ الفاظ یاد آجاتے ہیں کہ جماعت کا اخلاص و محبت اور جوش ایمان دیکھ کر خود ہمیں تعجب اور حیرت ہوتی ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحه 605 مطبوعہ ربوہ) مالی بحران کے ضمن میں یہ بھی ضمنا کہوں گا کہ ابھی پتہ نہیں کہ کہاں جا کر اس نے ٹھہر نا ہے اور کس حد تک اس میں شدت آتی ہے۔اس لئے احمدیوں کو گھروں میں ہر وقت کچھ دنوں کی جنس ضرور رکھنی چاہئے۔غریب ملکوں کو تو ایسے حالات برداشت کرنے کی عادت ہے اور کچھ نہ کچھ انہوں نے رکھا بھی ہوتا ہے لیکن ان ملکوں میں عادت نہیں ہے۔اس لئے پتہ ہی نہیں کہ بحران کیا ہوتے ہیں۔ان لوگوں نے تو آخری بحران دوسری جنگ عظیم میں ہی دیکھا تھا اس کے بعد پھر نہیں دیکھا۔اس لئے ان کی نئی نسل کو تو کوئی احساس ہی نہیں کہ کیا ہو سکتا ہے ؟ لیکن کسی panic کی ضرورت نہیں ہے۔احتیاط کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے احمدیوں کو جس حد تک ہو سکتا ہے کچھ نہ کچھ خشک راشن ضرور گھروں میں رکھنا چاہئے۔بہر حال یہ دعا بھی کرنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ دنیا کو توفیق دے کہ اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانیں اور خدا تعالیٰ کی پکڑ سے بچ جائیں، اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔