خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 544
ނ 544 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم رہنے والا تھا، یہ اعلان کوئی معمولی اعلان نہیں تھا کہ خدا نے میرے سپرد قرآن کریم کی تعلیم کو پھیلانے اور لاالہ إلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کی عظمت دلوں میں بٹھانے کا کام کیا ہے۔اور پھر دنیا نے دیکھا کہ یہ پیغام اس بستی سے نکل کر نہ صرف ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں اور ہر کونے میں پھیلا بلکہ یورپ اور امریکہ تک پہنچ گیا۔اسلام کی عظمت دلوں میں قائم ہونے لگی۔بڑے بڑے پادری یا دوسرے مذاہب کے لیڈر جو اسلام مخالف تھے اور جو اپنے زعم میں طاقتور اور دولتمند تھے، آپ کے مقابلے پر اور آپ کے راستے میں جب آئے تو یا تو ذلیل ورسوا ہوئے یا اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے انہیں تباہ و برباد کر دیا اور مخالفین اسلام کی ذلت و رسوائی کے یہ نظارے نہ صرف بر صغیر پاک و ہند کی زمین نے دیکھے بلکہ یورپ اور امریکہ نے بھی دیکھے۔لیکن افسوس ہے اُن مسلمان علماء اور پیروں پر جن کی آنکھیں یہ نظارے دیکھ کر بھی نہ کھلیں بلکہ مخالفت میں اور بھی سر گرم ہوئے۔لیکن خدائی تقدیر کا تو کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔اپنوں اور غیروں کی یہ مخالفتیں اور دشمنیاں تو وہ کام کرتی رہیں اور اب تک کر رہی ہیں جو فصلوں اور درختوں کے لئے کھاد اور پانی کرتے ہیں۔آج تک ہم یہ نظارے دیکھ رہے ہیں کہ جب بھی جماعت کو کسی بھی جگہ کسی بھی طریق سے دبانے کی کوشش کی گئی تو اس جری اللہ کی جماعت ایک نئی شان سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بنتے ہوئے ترقی کی نئی منزلیں دکھانے والی بنی۔اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہمیشہ اس لئے جماعت کے شامل حال ہے کہ جماعت نے اُس مقصد کو پیش نظر رکھا جس کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے تھے۔افراد جماعت نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کو پیش نظر رکھا جو آپ نے رسالہ الوصیت میں فرمایا ہے کہ : خدا تعالیٰ چاہتا ہے کہ ان تمام روحوں کو جو زمین کی متفرق آبادیوں میں آباد ہیں کیا یورپ اور کیا ایشیا۔ان سب کو جو نیک فطرت رکھتے ہیں توحید کی طرف کھینچے اور اپنے بندوں کو دین واحد پر جمع کرے۔یہی خدا تعالیٰ کا مقصد ہے جس کیلئے میں دنیا میں بھیجا گیا۔سو تم اس مقصد کی پیروی کرو۔مگر نرمی اور اخلاق اور دعاؤں پر زور دینے سے“۔( الوصیت۔روحانی خزائن جلد 20۔صفحہ 307،306) پس دنیا کو دین واحد پر جمع کر کے توحید پر قائم کرنا، قرآنِ کریم کی حکومت دنیا میں قائم کرنا، اس کی تعلیم کو پھیلانا اور نیک فطرتوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا، یہ وہ وسیع اور عظیم کام ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے بعد جماعت کے سپرد فرمایا۔مگر یہ کام اپنی حالتوں میں پاک تبدیلیوں، قربانیوں اور دعاؤں کے بغیر نہیں ہو سکتا۔اور جب تک ہم اس کے لئے کوشش کرتے رہیں گے ہم یہ ترقیاں دیکھتے رہیں گے جو اللہ تعالیٰ نے جماعت کے لئے مقدر کی ہیں۔آج تک جماعت کی یہی خوبصورتی اور شان ہے کہ اس مقصد کو حاصل کرتے ہوئے جماعت من حیث الجماعت آگے بڑھتی چلی جارہی ہے اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کر رہی ہے، اس کے لئے قربانیاں دیتی چلی جارہی ہے۔اگر اس مقصد کے حصول کے لئے دعاؤں کی طرف توجہ رہی تو انشاء اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہم ترقی کے نظارے دیکھتے چلے جائیں گے۔جب بھی جماعت کو اس مقصد کے حصول کے لئے توجہ دلائی گئی، جماعت