خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 543
خطبات مسرور جلد نهم 543 44 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 04 نومبر 2011ء خطبہ جمعہ فرمودہ 04 نومبر 2011ء بمطابق 04 نبوت 1390 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح لندن، (برطانیہ) تشہد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : ” یہ عاجز تو محض اس غرض کے لئے بھیجا گیا ہے کہ تا یہ پیغام خلق اللہ کو پہنچاوے کہ دنیا کے تمام مذاہب موجودہ میں سے وہ مذہب حق پر اور خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق ہے جو قرآنِ کریم لایا ہے اور دار النجات میں داخل ہونے کے لئے دروازہ لا إِلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ (حجۃ الاسلام۔روحانی خزائن۔جلد 6 صفحہ 53،52) رَّسُولُ الله ہے“۔پس اس زمانے میں جس جری اللہ نے قرآنِ کریم کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانا تھا، قرآن کریم کی تعلیم کو دنیا کے ہر باشندے کو اُس کی زبان میں پہنچانا تھا وہ یہی عاشق قرآن اور غلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے جس کا نام حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہے۔آپ ہی وہ اللہ کے پہلوان ہیں جنہوں نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ کا جھنڈا دنیا میں لہرا کر بھٹکی ہوئی انسانیت کو نجات کے راستے دکھانے تھے۔آپ کا روحانی معارف سے پر لٹریچر اور کتب اور آپ کی زندگی کا ہر لمحہ اس بات کے گواہ ہیں کہ آپ نے اُس کام کا جو آپ کے سپر د کیا گیا تھا، حق ادا کر دیا۔اُس زمانے میں جبکہ آپ کے پاس دنیاوی وسائل نہیں تھے ، معمولی حد تک بھی نہیں تھے، اتنا بڑا کام کرنا یہ کوئی آسان کام نہیں تھا لیکن خدا تعالیٰ کے فرستادوں کو کامل توکل کیونکہ صرف خدا تعالیٰ کی ذات پر ہوتا ہے۔اس لئے آپ نے اپنے سپر د کئے گئے اس کام کے لئے کسی دنیاوی وسیلے پر انحصار نہیں کیا بلکہ حسب ضرورت خدا سے مانگا اور اللہ تعالیٰ نے ہر موقع پر آپ کی مدد فرمائی۔گو دنیاوی تدبیر کے لئے ، جسے کرنے کا حکم بھی خدا تعالیٰ نے دیا ہے، آپ نے اپنے قریبوں اور اپنے متبعین کو مختلف موقعوں پر قربانیوں کی تحریک کی جس میں مالی قربانیاں بھی تھیں، لیکن کبھی کسی پر بھروسہ نہیں کیا۔جیسا کہ ہمیشہ سے اللہ تعالیٰ کے فرستادوں اور انبیاء کا یہ دستور رہا ہے کہ وہ اپنے سپر د کئے گئے کاموں کے لئے قربانیوں کی تحریکات بھی کرتے ہیں، آپ نے بھی تحریک کی لیکن ہمیشہ یہی فرمایا کہ میر ا تو کل میرے خدا پر ہے جس نے اس عظیم کام کی، جو میرے سپر دہے، تکمیل کے لئے میرے سے وعدہ کیا ہوا ہے۔پس ایک ایسے شخص کا جو بر صغیر کے ایک دور دراز علاقے کے چھوٹے سے قصبے میں