خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 542 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 542

542 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 28 اکتوبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم زیادہ نظر آنے لگی گئی ہیں۔ایک دوسرے کے خلاف مقدمات لڑائیاں ، رنجشیں بہت زیادہ بڑھ رہی ہیں۔اس طرف ہمیں توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پس اگر ہم نے آپ کی حقیقی جماعت میں ہونے کا حقدار کہلانا ہے تو ہمیں اپنی حالتوں کی طرف ہر لمحہ اور ہر آن نظر رکھنی ہو گی۔ہمارا علم کس کام کا ہے اگر موقع پر وہ ہمارے اخلاق کو ظاہر نہیں کرتا۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ تم تبلیغ کرتے ہو، دوسروں کو نصیحت کرتے ہو لیکن جب موقع آئے تو تمہارے سے وہ ظاہر نہیں ہوتا، تمہاری اپنی حالتوں پر اُس کا اظہار نہیں ہو رہا ہو تا۔پس علم وہی کام کا ہے جس کا سایہ ہمارے اوپر بھی نظر آتا ہو۔جب تک ہمارے آپس کے تعلقات کا اظہار ہمارے اند ر اور باہر کو ایک کر کے نہیں دکھاتا اُس وقت تک ہمارا علم بے فائدہ ہے۔آج کے دور میں جبکہ جماعت کے خلاف مخالفت بھی شدت کو پہنچی ہوئی ہے ہمیں ہر سطح پر اپنی ذاتی خواہشوں اور اناؤں کو پس پشت ڈال کر ایک ہونے کی اعلیٰ ترین مثال قائم کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس جماعت کو صحابہ کے نمونے پر چلانا چاہتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔گزشتہ جمعہ ، خطبہ ثانیہ کے دوران میری ذرا بھی کھانسی کی وجہ سے بعض لوگوں کو پریشانی بھی ہوئی تھی۔عرب ملکوں سے بھی بعض اور جگہوں سے بھی بڑی فیکسیں اور خط بھی آئے کہ ہم انتظار نہیں کر سکتے۔اور اس کے ساتھ نسخے بھی اتنی بڑی تعداد میں آئے ہیں کہ اگر میں اُن کو استعمال کرناشروع کر دوں تو شاید مزید بیمار ہو جاؤں۔بہر حال لوگوں نے اپنی طرف سے نیک جذبات کا اظہار کیا ہے۔اللہ تعالیٰ سب کو جزا دے۔اور یہ جو وبائی بیماریاں ہوتی ہیں اپنا وقت تو لیتی ہی ہیں۔علاج میں اپنے طور پر ہو میو پیتھی کا کرتا ہوں۔باقی ڈاکٹروں کی مدد سے بھی کچھ نہ کچھ کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ فضل فرمائے۔بس دعاؤں میں یا درکھیں۔الفضل انٹر نیشنل مورخہ 18 نومبر تا 24 نومبر 2011ء جلد 18 شمارہ 46 صفحہ 5 تا 7)