خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 458 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 458

خطبات مسرور جلد نهم 458 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2011ء پس ہمیں یادرکھنا چاہئے کہ احمدیت کی فتح کے لئے سچائی کا ہتھیار ہے جو ہم نے استعمال کرنا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اسلام کی تعلیم سچی ہے، قرآن کریم سچا ہے اور اس تعلیم نے تاقیامت رہنا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آخری شرعی نبی ہیں اور اب کوئی نئی شریعت، کوئی نئی سچائی اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں اترنی۔نبوت کے تمام کمال آپ پر ختم ہو چکے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کا دعوی سچا ہے۔آپ ہی وہ مسیح و مہدی موعود ہیں جن کے آنے کی پیشگوئی تھی اور اب اسلام کی ترقی احمدیت کی ترقی سے وابستہ ہے لیکن اس ترقی کا حصہ بننے کے لئے، اس سچائی کے پھیلانے کے لئے جو احمدیوں کی ذمہ داری ہے اُس کو ادا کرنے کے لئے ہمیں اپنے عمل بھی بچے کرنے ہوں گے۔اُس تعلیم کے مطابق ڈھالنے ہوں گے جس تعلیم کی ہم تبلیغ کر رہے ہیں۔پس اگر ہم نے اس غلبے کا حصہ بننا ہے جو اسلام کے لئے مقدر ہے انشاء اللہ ، اگر ہم نے اُس غلبے کا حصہ بننا ہے جس کا وعدہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کے ساتھ بھی کیا ہے تو پھر ہمیں ہر آن اپنا محاسبہ کرنے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک ہم سچے ہیں ؟ اپنے گھروں میں، اپنے ماحول میں، اپنے جماعتی معاملات میں، اپنے کاروباری معاملات میں ہمیں جائزے لینے ہوں گے۔اگر جائزے بے چینی پیدا کرنے والے ہیں تو پھر ہمیں فکر کی ضرورت ہے۔بیشک احمدیت کا غلبہ تو یقینی ہے انشاء اللہ اور اس غلبے کو ہم ہر روز مشاہدہ بھی کر رہے ہیں، لیکن سچائی کا حق ادانہ کرنے والے اس غلبے کا حصہ بننے سے محروم رہیں گے۔پس یہ لمحہ فکریہ ہے ، غور کرنے کا مقام ہے، اس بات کو سوچنے کی ضرورت ہے کہ سچائی کو پا کر ہم کس طرح اپنے عملوں کو جھوٹ سے پاک کرنے والے بنیں۔ہمیشہ ہمارے پیش نظر رہنا چاہئے کہ جھوٹ شرک ہے۔جن احمدیوں نے سچائی کے اظہار اور اسے قائم رکھنے کے لئے قربانیاں دی ہیں یادے رہے ہیں وہ اصل میں شرک کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں۔وہ خدائے واحد کی حکومت دنیا میں قائم کرنے کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں۔وہ جابر انتظامیہ اور حکومت اور ظالم ملاں کی اس بات کے خلاف قربانیاں دے رہے ہیں کہ اگر تم زندگی چاہتے ہو، اگر تم اپنے مالوں کو محفوظ کرنا چاہتے ہو، اگر تم اپنے بچوں کا سکون چاہتے ہو تو پھر سچائی کو چھوڑ دو اور جھوٹ کو اختیار کر کے ہمارے پیچھے چلو۔پس یہ قربانیاں کرنے والے جو مقصد ادا کر رہے ہیں ہم باہر رہنے والوں کا بھی فرض ہے کہ ہر وہ احمدی جو نسبتا سکون سے زندگی گزار رہا ہے اُس کا یہ فرض ہے کہ سچائی کے معیار کو اتنا بلند کرے کہ جھوٹ اپنی موت آپ مر جائے۔اور جب ہم نیک نیتی سے اس مقصد کے حصول کے لئے کوشش کر رہے ہوں گے تو یقینا جھوٹ کو فرار اور موت کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہو گا۔ابوسفیان نے فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہی عرض کیا تھا کہ اگر ہم سچے ہوتے اور ہمارے معبود بچے ہوتے اور طاقتور ہوتے ، کسی قدرت کے مالک ہوتے تو جس کسمپرسی کی حالت میں آپ مکہ سے نکلے تھے اور آپ کے ختم کرنے کی جو کوششیں ہم نے کی ہیں اُس کی وجہ سے آج آپ کی جگہ ہم بیٹھے ہوتے۔لیکن ہمیشہ کی طرح یہ ثابت ہو گیا کہ جس طرح آپ اپنی زندگی کے ہر معاملے میں سچائی کا اظہار کرتے رہے اور جس