خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 457 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 457

خطبات مسرور جلد نهم 457 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2011ء بنتی ہیں۔پھر اس کے علاوہ اگر غلط بیانی کی عادت پڑ جائے تو جماعت کے اندر بھی اپنے معاملات میں جھوٹ کا سہارالیا جاتا ہے اور پھر اس جھوٹ سے ہر معاملے میں بے برکتی پڑتی چلی جاتی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا اس سے گھروں میں بھی بچوں پر برا اثر پڑ رہا ہوتا ہے۔بات کا اثر نہیں ہوتا۔کئی بچے بچیاں مجھے لکھ بھی دیتے ہیں کہ ہمارا باپ باہر بظاہر بڑا نیک شریف اور سچا اور کھر امشہور ہے۔خدمت کرنے والا بھی ہے لیکن گھروں کے اندر ہمیں پتہ ہے غلط باتیں کرنے والا ہے اور سچائی سے ہٹا ہوا ہے۔تو ایسے باپوں کا بچوں پر کیا اثر ہو گا یا ایسی ماؤں کا بچوں پر کیا اثر ہو گا جو غلط بیانی سے کام لیتی ہیں ؟ اگر پوچھو تو پھر جھوٹ کا سہارا لیا جاتا ہے کہ ہم ٹھیک ہیں۔سب ٹھیک ہے۔تو پھر ایسے لوگوں کی تبلیغ کا اور بات کا بھی اثر نہیں ہوتا۔جن کے گھروں کے بچوں پر ہی اثر نہیں ہو رہا جن کے گھروں کے بچے ہی اُن سے غلط اثر لے رہے ہیں، اُن پر غلط اثر قائم ہو رہا ہے وہ باہر کیا اصلاح کریں گے ؟ پس اس بات کا ہر احمدی کو بہت زیادہ خیال رکھنے کی ضرورت ہے۔اگر ہم میں یہ باتیں پیدا ہو رہی ہیں اور بڑھ رہی ہیں تو پھر تو ہم اُن لوگوں میں شمار ہوں گے جو کہتے کچھ ہیں اور کرتے کچھ ہیں۔ہم یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ احمدیت سچی ہے، حقیقی اسلام ہے۔ہم یہ نعرہ لگاتے ہیں کہ ”محبت سب کے لئے (ہے) نفرت کسی سے نہیں“ لیکن سب سے پہلے تو ہم نے اپنے گھروں کو محبت دینی ہے وہاں سچائی قائم کرنی ہے۔اپنے عزیزوں، رشتے داروں کو محبت دینی ہے، اپنی جماعت کے افراد کو محبت دینی ہے، اپنے ماحول کو محبت دینی ہے، تبھی ہماری محبت وسیع سے وسیع تر ہوتی چلی جائے گی، تبھی سچائی سے آگے سچائی پھیلتی چلی جائے گی۔ورنہ ہمارا یہ نعرہ کھو کھلا ہے۔ہم جھوٹے نعرے لگا رہے ہیں۔ہمارے گھروں میں تو بے چینیاں ہوں اور ہم دوسروں کو بلا رہے ہوں کہ آؤ اور سچائی کو پا کر اپنی بے چینیوں کو دور کرو۔ہم دوسروں کو جاکر تو محبت کی تبلیغ کر رہے ہوں اور اپنے ہمسایوں سے ہمارے تعلقات اچھے نہ ہوں جس کا سب سے زیادہ حق ہے۔قرآنِ کریم میں ہمسائے کا سب سے زیادہ حق لکھا ہے۔اسلام میں سب سے زیادہ حق ہمسائے کو دیا گیا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ تمہارا دینی بھائی بھی تمہارا ہمسایہ ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد چہارم صفحہ 215 مطبوعہ ربوہ) یہ صرف گھر سے گھر جڑنا ہمسائیگی نہیں ہے بلکہ ہر دینی بھائی جو ہے وہ تمہارا ہمسایہ ہے اُس کا حق ادا کرو۔پس اگر ہم بچے ہیں تو آپس کے تعلقات کو بھی مضبو ط جوڑنا ہو گا ورنہ ہماری تبلیغ بے برکت ہو گی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ (الصف:3) ( کہ اے وہ لوگو) جو ایمان لائے ہو تم وہ باتیں کیوں کہتے ہو جو کرتے نہیں؟ کیونکہ اگر تمہارے عمل تمہارے قول کا ساتھ نہیں دے رہے تو یہ منافقت ہے اور اس میں کبھی برکت نہیں پڑ سکتی۔اس سے ہمیشہ بے برکتی پیدا ہو گی۔ایمان کو اپنے قول و فعل کے تضاد سے داغدار نہ کرو۔جس بچے اور کامل نبی کے عاشق صادق کے ساتھ تم بھڑ گئے ہو یا جڑنے کا دعویٰ کرتے ہو اُس کے ساتھ حقیقت میں جڑنا تو بھی ہو گا جب کوئی تم پر یہ کہہ کر انگلی نہ اٹھائے کہ یہ شخص جھوٹا ہے۔اگر یہ جھوٹا ہے تو ہر کہنے والا یہی کہے گا کہ یہ خود جھوٹا ہے تو جس کے ساتھ جڑ کر یہ سچائی کا اعلان کر رہا ہے تو اس کی سچائی بھی محل نظر ہو گی۔تبھی تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ ہمارے ساتھ جڑ کر ہمیں بد نام نہ کرو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد چہارم صفحہ 145۔مطبوعہ ربوہ )