خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 459
459 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم طرح آپ کے منہ سے ہمیشہ سچی بات کے علاوہ اور کچھ نہیں نکلا آج یہ ثابت ہو گیا کہ آپ کا اعلان کہ سچ اور صدق یہی ہے کہ اس عالم کون کا ایک خدا ہے، اس کی عبادت کرو اس کی بندگی کا حق ادا کرو وہی سچا خدا ہے۔یقینا آپ کا یہ اعلان بھی سچا تھا اور سچا ہے اور اسلام کا خدا یقینا سچا خدا ہے اور اُس کے ماننے والے بھی سچے ہیں۔اس لئے ابو سفیان نے اعلان کیا کہ میں بھی کلمہ پڑھتا ہوں اور اسلام میں داخل ہوئے۔سبل الهدی والرشاد فی سیرة خير العباد از علامہ محمد بن یوسف صالحی جلد 5 صفحہ 217 فی غزوۃ الفتح الا عظم۔۔۔۔دارالکتب العلمیۃ بیروت 1993) پس یہ تھے وہ سچائی کے نمونے جو دنیا نے دیکھے۔جس نے سخت ترین دشمنوں کو بھی حق کی دہلیز پر لا ڈالا۔پس جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو عظیم فساد کی حالت میں دیکھا اور سچائی کے نور سے اس فساد کو ختم کر کے باخدا انسان بنادیا۔مشرکوں کو توحید پر قائم کر دیا۔کفار مکہ کے تکبر اور جھوٹ کو سچائی نے اور اللہ تعالیٰ کے وعدوں نے پارہ پارہ کر دیا آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ بھی یہی وعدے ہیں اور جیسا کہ میں نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ آپ کے ذریعہ بھی اسلام کا غلبہ ہونا ہے لیکن ہمیں باخدا بننے کی ضرورت ہے۔سچائی کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنانے کی ضرورت ہے۔سچائی پر قائم رہتے ہوئے اپنے ایمانوں کو قوی کرنے کی ضرورت ہے تا کہ یہ نظارے دیکھ سکیں۔ہم ہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر عہد بیعت کیا ہے کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم کریں گے ، سچائی کو قائم کریں گے اور جھوٹ اور شرک کا خاتمہ کریں گے۔پس آج سچائی کا اظہار اور صداقت کا قائم کرنا احمدیوں کا کام ہے۔کیونکہ ہم وہ لوگ ہیں جنہوں نے صادق کامل صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام صادق کی بیعت کر کے سچائی کو دنیا میں قائم کرنے کا عہد کیا ہے اور عہدوں کے پورا کرنے کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق ہم پوچھے جائیں گے۔پس بڑے فکر اور خوف کا مقام ہے۔ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ اگر ہم نے اپنے آپ کو سچائی کا نمونہ نہ بنایا تو پھر ہم کبھی تو حید کو قائم کرنے اور اُس صدق کو پھیلانے والے نہیں بن سکتے جس کی تکمیل و اشاعت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام آئے تھے۔وہ صدق جو آج سے چودہ سو سال پہلے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا تھا لیکن مسلمانوں کی ہی شامت اعمال کی وجہ سے وہ صدق آج دنیا سے مفقود ہے اور دنیا ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَ الْبَحْرِ (الروم : 42) کا نمونہ بنی ہوئی ہے۔لیکن اللہ تعالیٰ جو اپنے بندوں پر بے انتہا احسان کرنے والا ہے اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اور آپ کے ذریعے ایک جماعت کو قائم کر کے اس کے دُور کرنے کے سامان بھی پیدا فرما دیئے ہیں۔خلافت علی منھاج نبوت کے ذریعے ایک جماعت کا قیام کر کے ہمیں سچائی کے قائم کرنے کی اُمیدیں بھی دلا دی ہیں۔پس ہر سطح پر اس فساد کو دور کرنا اور سچائی کو قائم کرنا اور اس کے لئے کوشش کرنا ہر اُس احمدی کا کام ہے جو اپنے آپ کو جماعت سے منسوب کرتا ہے۔ہمیں اس فساد اور جھوٹ کو گھروں سے بھی ختم کرنا ہے جو گھروں میں فتنے کا باعث بنا ہوا ہے۔ہمیں اس فساد کو محلوں سے بھی ختم کرنا ہے۔ہمیں اس فساد اور جھوٹ کو شہروں سے بھی ختم کرنا ہے اور ہمیں اس فساد اور جھوٹ کو اس دنیا سے بھی ختم کرنا ہے تاکہ دنیا میں پیار اور محبت اور امن اور صلح کا ماحول قائم ہو جائے۔