خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 456
456 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 09 ستمبر 2011ء خطبات مسرور جلد نهم لیکن ہم احمدی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کی جماعت ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ہم نے یہ سچائی کا پیغام دنیا کو پہنچانا ہے، لیکن کس طرح؟ پہلے تو ہمیں اپنے آپ کو سچا ثابت کرنا ہو گا۔انبیاء نے اپنی سچائی کی دلیل اپنی زندگی میں سچ کی مثالیں پیش کر کے دی کہ روز مرہ کے عام معاملات سے لے کر انتہائی معاملات تک کسی انسان سے تعلق میں، Dealing میں کبھی ہم نے جھوٹ نہیں بولا۔پس یہ سچائی کا اظہار ہمیں بھی اپنی زندگیوں میں کرنا ہو گا۔اور یہی کام ہے جو انبیاء کے مانے والوں کا ہے کہ جس طرح انبیاء اپنی مثال دیتے ہیں اُن کے حقیقی ماننے والے بھی اپنی سچائی کو اس طرح خوبصورت کر کے پیش کریں کہ دنیا کو نظر آئے۔ہمیں تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کرنے کا حکم ہے۔پس اس اسوہ پر چلتے ہوئے سچائی کے خُلق کو سب سے زیادہ ہمیں اپنانا ہو گا۔ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے مشن کو تبھی پورا کر سکتے ہیں جب اس خُلق کو اپنائیں گے۔تبھی ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پیغام کو دنیا تک پہنچانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں۔لیکن سچائی کے یہ معیار تبھی حاصل ہوں گے جب ہم ہر سطح پر خود اپنی زندگی کے ہر لمحے کو سچائی میں ڈھالیں گے۔ہماری گھریلو زندگی سے لے کر ہماری باہر کی زندگی اور جو بھی ہمارا حلقہ اور ماحول ہے اُس میں ہماری سچائی ایک مثال ہو گی، تبھی ہماری باتوں میں بھی برکت ہو گی، تبھی ہمارے اخلاق اور سچائی دوسروں کو متاثر کر کے احمدیت اور اسلام کے قریب لائیں گے۔پس اس کے لئے ہمیں ایک جد وجہد اور کوشش کرنی ہو گی۔اپنے عملوں کو سچائی سے سجانا ہو گا۔اگر ہم چھوٹے چھوٹے مالی فائدوں کے لئے جھوٹ کا سہارا لینے لگ گئے تو پھر ہماری باتوں کا کیا اثر ہو گا۔جیسا کہ پہلے میں کئی مرتبہ کہہ چکا ہوں اگر ہم غلط بیانی کر کے مثلاً حکومت سے ، کو نسل سے مالی مفاد حاصل کر رہے ہیں، اگر ہم اپنے ٹیکس صحیح طور پر ادا نہیں کر رہے تو پکڑے جانے پر پھر جماعت کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں کیونکہ احمدی کا ہر ایک کو پتہ چل جاتا ہے کہ یہ احمدی ہے اور جب بد نامی ہو جائے تو پھر تبلیغ کیا ہو گی ؟ کس طرح ثابت کریں گے کہ جس جماعت سے آپ کا تعلق ہے جس کا دعویٰ ہے کہ احمدی برائیوں میں ملوث نہیں ہوتے ، قانون کے پابند رہتے ہیں، باقی مسلمانوں سے مختلف ہیں کیونکہ انہوں نے اس زمانے میں اُس شخص کی بیعت کی ہے جو دنیا کی رہنمائی کے لئے آیا ہے تو یہ ثابت کرنا مشکل ہو جائے گا۔پس یہ ثابت کرنے کے لئے ہمیں اپنے عملوں کو درست کرنا ہو گا، چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا ہو گا۔ہم کس طرح ثابت کریں گے کہ ہم وہ لوگ ہیں جو قرآن و سنت پر عمل کرنے والے ہیں۔پس ہمیں اس کام کو پھیلانے کے لئے جماعت کی نیک نامی کے لئے اپنی ذاتی اصلاح کی طرف بھی بہت کو شش کرنے کی ضرورت ہے۔جھوٹ پکڑے جانے پر نہ صرف ہم اپنے آپ کو مشکل میں ڈالتے ہیں بلکہ جماعت اور اسلام کی بدنامی کا باعث بھی بنتے ہیں۔پھر بعض دوسری بد اخلاقیاں ہیں۔بعض نوجوانوں کا غلط قسم کی صحبت میں اُٹھنا بیٹھنا ہے۔پھر میاں بیوی کے گھریلو جھگڑے ہیں، پہلے بھی میں نے عرض کیا، جن میں بعض اوقات پولیس تک معاملے پہنچ جاتے ہیں۔وہاں پھر کوئی نہ کوئی فریق غلط بیانی سے کام لیتا ہے۔تو بہر حال یہ سب چیزیں جماعت کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں اور معاشرے میں غلط اثر قائم ہو کر تبلیغ میں روک کا بھی باعث