خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 437 of 752

خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 437

437 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اگست 2011 ء ہلاکت ہے اور خدا تعالیٰ نے مجھ پر ایسا ہی ظاہر کیا ہے۔۔۔۔۔۔۔غرض مُنْعَم عَلَيْهِم لوگوں میں جو کمالات ہیں اور صِرَاطَ الَّذِيْنَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ میں جس کی طرف اللہ تعالیٰ نے اشارہ فرمایا ہے ، اُن کو حاصل کرنا ہر انسان کا اصل مقصد ہے اور ہماری جماعت کو خصوصیت سے اس طرف متوجہ ہونا چاہئے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کے قائم کرنے سے یہی چاہا ہے کہ وہ ایسی جماعت تیار کرے جیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی تھی تا کہ اس آخری زمانہ میں یہ جماعت قرآنِ شریف اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سچائی اور عظمت پر بطور گواہ ٹھہرے“۔( الحکم 31 مارچ 1905ء جلد 9 نمبر 11 صفحہ 6-5- بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اوّل صفحہ 287 288 ) پھر آپ نے فرمایا کہ: ”یقینا جانو کہ اللہ تعالیٰ اُس وقت تک راضی نہیں ہو تا اور نہ کوئی شخص اُس تک پہنچ سکتا ہے جب تک صراطِ مستقیم پر نہ چلے۔وہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی ذات اور صفات کو شناخت کرے اور اُن راہوں اور ہدایتوں پر عمل درآمد کرے جو اُس کی مرضی اور منشاء کے موافق ہیں“۔فرمایا کہ ”جب یہ ضروری بات ہے تو انسان کو چاہئے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھے“۔(ملفوظات جلد 4 صفحہ 326) پھر اس دعا کی وسعت کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ”دعا کے بارہ میں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ نے سورۃ الفاتحہ میں یہ دعا سکھلائی ہے۔یعنی اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ انْعَمْتَ عَلَيْهِمْ۔اس میں تین لحاظ رکھنے چاہئیں۔(1) ایک یہ کہ تمام بنی نوع کو اس میں شریک رکھے “ ( جب یہ دعا کر رہے ہو تو کل انسانیت کو اس میں شریک کرو کہ اللہ تعالیٰ اُن کو بھی صراطِ مستقیم پر چلائے اور ہدایت دے اور اُن کو بھی انعامات میں شامل کرے)۔( پھر دوسرے نمبر پر) (2) تمام مسلمانوں کو “ ( بھی شامل کرو۔پھر) (3) تیسرے اُن حاضرین کو جو جماعت نماز میں داخل ہیں“ (جو مسجد میں تمہارے ساتھ نماز پڑھ رہے ہیں اُن کو بھی اپنے ساتھ اس دعا میں شامل کرو)۔فرمایا ”پس اس طرح کی نیت سے کل نوع انسان اس میں داخل ہوں گے اور یہی منشاء خدا تعالیٰ کا ہے کیونکہ اس سے پہلے اسی سورت میں اس نے اپنا نام رب العلمین رکھا ہے جو عام ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے جس میں حیوانات بھی داخل ہیں۔پھر اپنا نام رحمان رکھا ہے اور یہ نام نوع انسان کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ یہ رحمت انسانوں سے خاص ہے اور پھر اپنا نام رحیم رکھا ہے اور یہ نام مؤمنوں کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ رحیم کا لفظ مؤمنوں سے خاص ہے۔اور پھر اپنا نام ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ رکھا ہے۔اور یہ نام جماعت موجودہ کی ہمدردی کی ترغیب دیتا ہے کیونکہ یومِ الدِّینِ وہ دن ہے جس میں خدا تعالیٰ کے سامنے جماعتیں حاضر ہوں گی۔سواسی تفصیل کے لحاظ سے اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقیم کی دعا ہے۔پس اس قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دعا میں تمام نوع انسانی کی ہمدردی داخل ہے اور اسلام کا اصول یہی ہے کہ سب کا خیر خواہ ہو“۔(الحکم 29 اکتوبر 1898ء جلد 2 نمبر 33 کالم 1-2 صفحہ 4 کالم 1-2- بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 290-291) فرمایا آیت اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ میں اشارہ ہے اور اس امر پر ترغیب دلائی گئی ہے کہ صحیح معرفت کے لئے دعا کی جاوے۔گویا کہ اللہ تعالیٰ ہمیں تعلیم دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ وہ اپنی صفات کی ماہیت تمہیں دکھائے اور تمہیں شکر گزار بندوں میں