خطبات مسرور (جلد 9۔ 2011ء) — Page 438
438 خطبات مسرور جلد نهم خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 26 اگست 2011 ء سے بناوے کیونکہ پہلی قومیں اللہ تعالیٰ کی صفات، اُس کے انعامات اور اُس کی خوشنودی کی معرفت سے اندھا ہونے کے بعد ہی گمراہ ہوئی ہیں۔انہوں نے اپنی زندگی کے دن ایسے اعمال میں ضائع کر دیئے جن اعمال نے انہیں گناہوں میں اور بھی آگے بڑھا دیا۔پس اُن پر خدا کا غضب نازل ہوا اور اُن پر خواری مسلط کر دی گئی اور وہ ہلاک ہونے والوں میں شامل ہو گئے۔اللہ تعالیٰ نے اپنے کلام غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔سیاق کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا غضب اُنہی لوگوں کا رُخ کرتا ہے جن پر اُس غضب سے پہلے اللہ تعالیٰ نے انعام گئے ہوں“۔یہ بڑی غور کرنے والی چیز ہے۔فرمایا غضب اُنہی پر ہوتا ہے جن پر اللہ تعالیٰ نے انعام کئے ہوں۔پس اگر انسان سمجھے کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ کے اتنے انعامات ہیں تو اس کو بہت زیادہ ڈر کے رہنا چاہئے۔) فرمایا: ”پس اس آیت میں مَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ سے مراد وہ لوگ ہیں جنہوں نے اُن نعمتوں اور برکتوں کے بارہ میں جو اللہ تعالیٰ نے خاص طور پر انہیں پر نازل فرمائی تھیں اُس (کے احکام) کی نافرمانی کی۔اپنی خواہشات کی پیروی کی اور انعام کرنے والے خدا اور اُس کے حق کو بھول گئے اور منکروں میں شامل ہو گئے۔اسی طرح ضاتین سے وہ لوگ مراد ہیں جنہوں نے صحیح رستہ پر چلنے کا ارادہ تو کیا لیکن صحیح علوم، روشن اور حقیقی معارف اور محفوظ رکھنے والی اور توفیق بخشنے والی دعائیں اُن کے شامل حال نہ ہو ئیں بلکہ اُن پر تو ہمات غالب آگئے اور وہ اُن کی طرف جھک گئے“۔( جیسا کہ میں نے بتایا کہ آجکل بعض مسلمانوں کا بھی یہی حال ہے)۔فرمایا کہ (اپنے صحیح) راستوں سے بھٹک گئے اور سچے مشرب کو بھول گئے۔پس وہ گمراہ ہو گئے اور انہوں نے اپنے افکار کو واضح اور کھلی سچائی کی چراگاہوں میں نہیں چھوڑا اور اُن کے افکار ، اُن کی عقلوں اور نظروں پر تعجب ہے کہ اُنہوں نے خدا تعالیٰ اور اُس کی مخلوق پر وہ کچھ جائز قرار دے دیا جس کو فطرتِ صحیحہ اور قلبی انوار ہر گز قبول نہیں کرتے۔وہ نہیں جانتے کہ شریعتیں (دراصل) طبائع کی (بطورِ علاج) خدمت کرتی ہیں اور طبیب طبیعت کا معاون ہوتا ہے نہ اُس کا مخالف۔پس افسوس ہے کہ یہ لوگ صادقوں کی راہ سے کتنے غافل ہیں“۔( ترجمه عربی عبارت کرامات الصادقین روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 123-124۔بحوالہ تفسیر حضرت مسیح موعود جلد اول صفحہ 323 325) یہ بھی کرامات الصادقین کا عربی ترجمہ ہے۔پس یہ لوگ جو اس زمانہ کے امام کو نہیں مان رہے ، حضرت مسیح موعود کو نہیں مان رہے وہ بھی بھٹکے ہوئے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں خالص ہو کر اپنے حضور دعا کرنے والا بنائے۔اُن لوگوں میں سے کبھی نہ بنائے جو ہدایت کے بعد پھر اللہ تعالیٰ کے غضب کے مورد بنتے ہیں۔گمراہ ہو کر اپنی دنیا و عاقبت برباد کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی صحیح معرفت عطا فرمائے اور ہمیشہ اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیم پر چلتا ر کھے۔اس رمضان کو ہمارے لئے اپنے جاری فضلوں اور ہدایت میں ترقی کرنے کا ذریعہ بنائے۔ہمیشہ ہم اُس کے آگے جھکنے والے رہیں۔الفضل انٹر نیشنل 16 ستمبر تا 22 ستمبر 2011ء جلد 18 شمارہ 37 صفحہ 5 تا8)